
عید الفطر رمضان کے اختتام پر اور عید الاضحیٰ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو منائی جاتی ہے۔ قرآن پاک میں سورہ البقرہ (آیت 185) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا… جو اس مہینے کو پائے، اسے روزہ رکھنا چاہیے۔”
یہ آیت رمضان اور عید الفطر کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ عید الاضحیٰ کے بارے میں سورہ الحج (آیت 28) میں قربانی اور عبادت کا ذکر ہے۔
صحیح بخاری کی ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “روزہ اس دن رکھو جب سب روزہ رکھیں، اور عید اس دن مناؤ جب سب عید منائیں۔”
یہ حدیث رویت ہلال (چاند دیکھنے) کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “چاند رات کے مسائل”) میں فرماتے ہیں: “عید کا دن چاند کی رویت سے طے ہوتا ہے۔ ایک ملک میں اتحاد ہونا چاہیے، لیکن کچھ شرعی حالات میں اختلاف ہو سکتا ہے۔”
اب سوال یہ ہے کہ کیا ایک ملک میں دو عید ہو سکتی ہیں؟ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو “عید اور چاند کی رویت” میں اس کی وضاحت کرتے ہیں: “ایک ملک میں دو عید منانا شرعاً ناپسندیدہ ہے، کیونکہ یہ امت کے اتحاد کے خلاف ہے۔ لیکن اگر چاند کی رویت کے بارے میں اختلاف ہو، جیسے کہ مختلف علاقوں میں چاند نظر آنے کی شہادت مختلف ہو، تو دو عید ہو سکتی ہیں۔”
مفتی صاحب کہتے ہیں: “اگر چاند کی شہادت معتبر ہو اور ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے، تو وہاں عید منانا جائز ہے۔ لیکن کوشش کریں کہ پورا ملک ایک دن عید منائے تاکہ اتحاد رہے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب اپنے ایک ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں لکھتے ہیں: “ایک ملک میں دو عید سے بچنا چاہیے، لیکن اگر چاند کی رویت کی وجہ سے اختلاف ہو، تو شرعاً جائز ہے۔ اتحاد کو ترجیح دو۔”
وہ مزید فرماتے ہیں: “اگر ایک شہر یا صوبے میں چاند نظر آ جائے، تو دوسرے علاقوں کو بھی اسے ماننا چاہیے، بشرطیکہ شہادت معتبر ہو۔”
ایک ملک میں دو عید ہونے کی چند وجوہات ہو سکتی ہیں:
مفتی صاحب کہتے ہیں: “چاند کی رویت شہادت پر مبنی ہو، نہ کہ سائنسی حسابات پر۔ لیکن اگر معتبر شہادت سے اختلاف ہو، تو دو عید جائز ہے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں، یہاں چند عملی نکات ہیں:
سوال: کیا ایک ملک میں دو عید منانا جائز ہے؟ جواب: ہاں، اگر چاند کی معتبر رویت کی وجہ سے اختلاف ہو، تو جائز ہے۔
سوال: کیا سعودی عرب کی رویت ماننا ضروری ہے؟ جواب: نہیں، مقامی رویت کو ترجیح دیں، لیکن اتحاد کے لیے ایک رویت ماننا افضل ہے۔
سوال: اگر شہر میں دو عید ہوں تو کیا کریں؟ جواب: اپنی کمیونٹی کے ساتھ مل کر عید منائیں، اور معتبر شہادت کو ترجیح دیں۔
آج کل سوشل میڈیا پر (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) چاند کی رویت اور عید کے بارے میں بحثیں ہوتی ہیں، لیکن غلط فہمیاں بھی پھیلتی ہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “چاند کی رویت شرعی شہادت سے طے کریں۔ امت کا اتحاد سب سے اہم ہے۔”
ایک سروے (Islamic Practices Report, 2025) کے مطابق، 60% مسلم کمیونٹی چاند کی رویت کے مسائل سے الجھن کا شکار ہے۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو ایک ملک میں دو عید جیسے سوالات کے درست جوابات دیں۔
ایک ملک میں کیا دو عید ہو سکتی ہیں؟ مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ اگر چاند کی معتبر رویت کی وجہ سے اختلاف ہو، تو دو عید منانا شرعاً جائز ہے، لیکن اتحاد افضل ہے۔ کوشش کریں کہ پورا ملک ایک دن عید منائے، اور رویت ہلال کمیٹی کی رہنمائی پر عمل کریں۔ اللہ سے امت کے اتحاد کی دعا مانگیں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے۔ کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
