
شوال کے چھ روزے نفلی عبادت ہیں، لیکن ان کی فضیلت بہت عظیم ہے۔ قرآن پاک میں سورہ البقرہ (آیت 183) میں روزوں کی اہمیت بیان کی گئی ہے: “اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔” والدین اور بیوی میں زیادہ حق کس کا ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
اگرچہ یہ آیت رمضان کے فرض روزوں سے متعلق ہے، لیکن نفلی روزے بھی تقویٰ اور اللہ سے قربت کا ذریعہ ہیں۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے، اسے پورے سال روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔”
اس حدیث کی تشریح میں علماء کہتے ہیں کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ رمضان کے 30 روزوں کا ثواب 300 دنوں کے برابر، اور شوال کے 6 روزوں کا ثواب 60 دنوں کے برابر ہوتا ہے، جو پورے سال (360 دن) کے برابر ہو جاتا ہے۔
مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “شوال کے روزوں کی فضیلت”) میں فرماتے ہیں: “شوال کے چھ روزے رمضان کی تکمیل ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے تحفہ ہیں کہ تھوڑی سی محنت سے پورے سال کا ثواب مل جاتا ہے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو “نفلی روزوں کے احکام” میں شوال کے روزوں کے بارے میں چند اہم نکات بیان کرتے ہیں:
وہ اپنے ایک ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں لکھتے ہیں: “شوال کے چھ روزے رکھو، یہ پورے سال کے روزوں کا ثواب دیتے ہیں۔ اللہ کی رحمت سے فائدہ اٹھاؤ۔”
شوال کے روزوں کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے۔ مفتی صاحب فرماتے ہیں: “رمضان کے بعد شوال کے روزے رکھنا گویا رمضان کی کمی کو پورا کرتا ہے۔ یہ اللہ سے قربت اور گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہیں۔”
مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں، شوال کے روزوں کا طریقہ یہ ہے:
مفتی صاحب کہتے ہیں: “شوال کے روزے رکھنا آسان ہے۔ بس نیت صاف رکھیں اور اللہ سے ثواب مانگیں۔”
مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنی ویڈیو “شوال کے روزوں کی اہمیت” میں اس موضوع پر واضح رہنمائی دی:
وہ کہتے ہیں: “شوال کے روزے رمضان کے بعد اللہ کی رحمت ہیں۔ انہیں ضائع نہ کرو، کیونکہ یہ کم محنت سے بڑا ثواب دیتے ہیں۔”
مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں، یہاں چند عملی نکات ہیں:
سوال: کیا شوال کے روزے لگاتار رکھنا ضروری ہیں؟ جواب: نہیں، الگ الگ بھی رکھ سکتے ہیں۔
سوال: کیا عید الفطر کے دن شوال کا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ جواب: نہیں، عید کے دن روزہ حرام ہے۔
سوال: اگر شوال میں روزے نہ رکھ سکیں تو کیا کریں؟ جواب: نفلی ہیں، لیکن کوشش کریں کہ شوال میں رکھ لیں۔
آج کل سوشل میڈیا پر (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) شوال کے روزوں کے بارے میں کم معلومات پھیلائی جاتی ہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “رمضان کے بعد شوال کے روزے اللہ کی رحمت ہیں۔ انہیں عادت بناؤ اور ثواب کماو۔”
ایک سروے (Islamic Practices Report, 2025) کے مطابق، 55% مسلم کمیونٹی شوال کے روزوں کی فضیلت سے ناواقف ہے۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو شوال کے روزوں کے بارے میں اہم بات واضح کریں۔ کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
شوال کے چھ روزوں کی فضیلت اور شرعی احکام یہ ہے کہ یہ چھ نفلی روزے پورے سال کے روزوں کا ثواب دیتے ہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ انہیں شوال کے مہینے میں کسی بھی وقت رکھا جا سکتا ہے، لیکن عید کے دن نہیں۔ نیت صاف رکھیں، اور اللہ سے مغفرت اور ثواب مانگیں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے۔
