
قرآن پاک میں سورہ البقرہ (آیت 185) میں ارشاد ہے: “رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا… جو شخص اس مہینے کو پائے وہ اس میں روزہ رکھے۔” روزہ کی ابتدا چاند کی رویت پر منحصر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو” (صحیح بخاری)۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو (Mufti Tariq Masood Official، “چاند کا مسئلہ”) میں فرماتے ہیں: “یہ حدیث واضح ہے کہ چاند دیکھنا شرط ہے، لیکن آج کے دور میں اتحاد کے لیے کمیٹی کا کردار اہم ہے۔”
رویت ہلال کا مطلب ہے چاند کو معتبر گواہوں کے ذریعے دیکھنا۔ شرعی طور پر دو معتبر مسلمان مردوں کی شہادت کافی ہے۔ مفتی صاحب اپنے ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں لکھتے ہیں: “چاند کی شہادت مقامی ہو یا قومی، اتحاد مقدم ہے۔ اپنے علاقے کی کمیٹی پر عمل کرو۔”
فقہاء نے اسے تین صورتوں میں تقسیم کیا:
مفتی صاحب کی ویڈیو “رویت ہلال اور جدید مسائل” میں واضح رہنمائی:
سوال: اپنے گھر سے چاند دیکھ لیا، کیا روزہ رکھوں؟ جواب: اگر دو معتبر گواہ ہوں تو جائز، ورنہ کمیٹی کا انتظار کرو۔ سوال: مرکزی کمیٹی کا فیصلہ نہ مانوں تو؟ جواب: اتحاد ٹوٹے گا، گناہ ہوگا۔ سوال: سعودیہ کے چاند پر عمل کروں؟ جواب: مقامی رویت مقدم، سعودیہ کا چاند الگ۔ کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
آج سوشل میڈیا پر چاند کی جعلی تصاویر وائرل ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ سعودیہ کے اعلان پر عمل کرتے ہیں۔ مفتی صاحب کہتے ہیں: “مقامی کمیٹی پر عمل کرو، افواہوں سے بچو۔” سروے (Ramadan Practices 2025) کے مطابق 58% لوگ چاند کے معاملے میں الجھن میں ہیں۔
بغیر کمیٹی فیصلے کے چاند دیکھ کے روزہ رکھنے والو سن لو، مفتی طارق مسعود کا فتوٰی ہے کہ اگر مقامی معتبر شہادت ہو تو جائز، لیکن اتحاد کے لیے کمیٹی کا فیصلہ ماننا افضل اور واجب ہے۔ رمضان کا روزہ اللہ کی رضا کے لیے ہے، تنازعہ کے لیے نہیں۔ اگر پوسٹ پسند آئی تو شیئر کریں، کمنٹس میں سوالات پوچھیں اور سبسکرائب کریں۔
