تراویح پڑھانے کے لیے ہدیہ لینا
تراویح رمضان کی راتوں میں سنت مؤکدہ ہے، اور اسے جماعت سے پڑھنا افضل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خود تراویح جماعت سے پڑھائی، پھر چھوڑ دی تاکہ واجب نہ ہو جائے (بخاری)۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو (Mufti Tariq Masood Official، “تراویح کا معاوضہ”) میں فرماتے ہیں: “امام تراویح پڑھانا مسجد کی خدمت ہے، لیکن اس کی محنت کا معاوضہ لینا جائز ہے۔”
قرآن پڑھانے کا معاوضہ: شرعی نقطہ نظر
قرآن کی تلاوت عبادت ہے، لیکن اس کی تعلیم یا امامت کے بدلے تنخواہ لینا فقہاء کے نزدیک جائز ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اماموں کو تنخواہ دی تھی۔ مفتی صاحب اپنے ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں لکھتے ہیں: “تراویح پڑھانے کے لیے ہدیہ لینے والو سن لو، یہ جائز ہے اگر مسجد کی کمیٹی سے طے ہو اور نیت تجارت نہ ہو۔”
تراویح کا معاوضہ: جائز یا ناجائز؟
فقہ حنفی میں تین درجے:
1. جائز اور مستحب صورت
- مسجد کی کمیٹی سے طے شدہ تنخواہ لینا۔
- امام پورا رمضان تراویح پڑھاتا ہے، اس کی محنت کا حق ہے۔
- مفتی صاحب فرماتے ہیں: “جیسے مدرس کو تنخواہ ملتی ہے، ویسے امام کو بھی۔”
2. جائز مگر مکروہ صورت
- ہدیہ یا تحفہ مانگنا (مثلاً “ہدیہ دیں گے تو پڑھائیں گے”)۔
- یہ دباؤ ڈالنا مکروہ ہے، لیکن اگر رضامندی سے ملے تو جائز۔
- مفتی صاحب کہتے ہیں: “مانگنا اچھا نہیں، لیکن کمیٹی خود دے تو لے لو۔”
3. ناجائز اور حرام صورت
- قرآن کی تلاوت کو کاروبار بنانا (مثلاً مہنگے ریٹ، مقابلہ بازی)۔
- یا نماز چھوڑنے کی دھمکی دینا۔
- حدیث میں ہے: “جو قرآن پڑھ کر لوگوں سے مانگے، قیامت میں اس کا منہ آگ سے بھرا ہوگا” (ترمذی) — لیکن یہ تعلیم کے بغیر مانگنے والوں کے لیے ہے۔
مفتی طارق مسعود کا تفصیلی فتوٰی
مفتی صاحب کی ویڈیو “امام کی تنخواہ اور تراویح” میں واضح رہنمائی:
- جائز: مسجد کی طرف سے ماہانہ تنخواہ یا رمضان کا معاوضہ۔
- شرط: نیت عبادت ہو، پیسے کی لالچ نہ ہو۔
- احتیاط: ہدیہ رضامندی سے ہو، مانگنا نہ ہو۔
- متبادل: اگر تنخواہ نہ ملے تو بھی تراویح پڑھاؤ، ثواب زیادہ۔ ایکس پر لکھتے ہیں: “تراویح پڑھانے کے لیے ہدیہ لینے والو سن لو، مسجد کی تنخواہ جائز ہے۔ لیکن قرآن کو تجارت نہ بناؤ، اللہ کی رضا مقدم ہے۔”
ہدیہ نہ لینے کی صورت میں متبادل
- مسجد کی کمیٹی سے معاوضہ طے کرو۔
- حافظ صاحب خود پیشکش کریں، مانگیں نہیں۔
- رضاکارانہ تراویح پڑھائیں — ثواب دگنا۔
- دعا: “اے اللہ! میری قرأت کو خالص اپنی رضا کے لیے قبول فرما” مفتی صاحب کہتے ہیں: “پیسے کے بغیر پڑھانا افضل ہے، لیکن جائز تنخواہ لینے میں حرج نہیں۔”
عام غلط فہمیاں
- قرآن پڑھانے کا ایک روپیہ بھی حرام: غلط، تعلیم/امامت کا معاوضہ جائز۔
- ہدیہ لینا تجارت ہے: نہیں، اگر طے شدہ اور منصفانہ ہو تو جائز۔
- امام کو تنخواہ نہ دو: غلط، اس کی محنت کا حق ہے۔
FAQ: عام سوالات
سوال: تراویح کے 5 ہزار روپے مانگنا جائز؟ جواب: مانگنا مکروہ، کمیٹی خود دے تو جائز۔ سوال: اگر تنخواہ نہ ملے تو تراویح چھوڑ دوں؟ جواب: نہیں، عبادت چھوڑنا گناہ، ثواب کے لیے پڑھاؤ۔ سوال: حافظ کو ہدیہ دینا سنت ہے؟ جواب: ہاں، رضامندی سے دینا مستحب ہے۔
جدید چیلنجز اور مسلم کمیونٹی
آج کچھ حافظ صاحبان “ریٹ کارڈ” لگاتے ہیں، جو غلط ہے۔ دوسری طرف کچھ مساجد تنخواہ نہیں دیتیں۔ مفتی صاحب کہتے ہیں: “منصفانہ معاوضہ طے کرو، قرآن کی عزت رکھو۔” سروے (Ramadan Imam Survey 2025) کے مطابق 65% مساجد امام کو رمضان تنخواہ دیتی ہیں — جو جائز ہے۔
نتیجہ
تراویح پڑھانے کے لیے ہدیہ لینے والو سن لو، مفتی طارق مسعود کا فتوٰی ہے کہ مسجد کی طرف سے طے شدہ تنخواہ یا ہدیہ جائز ہے، بشرطیکہ نیت عبادت ہو اور مانگنے کی بجائے رضامندی سے ہو۔ قرآن کی تلاوت عبادت ہے، لیکن امام کی محنت کا حق بھی ہے۔ پوسٹ پسند آئی تو شیئر کریں، کمنٹس میں سوالات پوچھیں اور سبسکرائب کریں۔