
غسل کے تین فرائض ہیں: منہ دھونا، ناک میں پانی ڈالنا، اور پورے جسم پر پانی بہانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب تم وضو کرو تو ناک میں پانی ڈالو اور خوب چھینکو” (بخاری)۔ غسل میں بھی یہی حکم ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو (Mufti Tariq Masood Official، “غسل اور روزہ”) میں فرماتے ہیں: “ناک میں پانی نرم ہڈی تک پہنچانا فرض ہے، لیکن روزے میں احتیاط کرو کہ حلق میں نہ جائے۔”
شرعی طور پر ناک کی نرم ہڈی (نرمی والی جگہ) تک پانی پہنچانا فرض ہے۔ اس سے اوپر سخت ہڈی شروع ہوتی ہے، وہاں تک پہنچانا سنت ہے۔ مفتی صاحب اپنے ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں لکھتے ہیں: “روزے میں دوران غسل ناک میں کہاں تک پانی پہنچائے؟ نرم ہڈی تک فرض، سخت ہڈی تک سنت — لیکن حلق میں نہ جائے۔”
فقہ حنفی میں تین درجے:
مفتی صاحب کی ویڈیو “روزے میں غسل کے مسائل” میں واضح رہنمائی:
سوال: نرم ہڈی کہاں ہوتی ہے؟ جواب: ناک کے اندر جہاں ہڈی نرم محسوس ہو، انگلی ڈال کر چیک کرو۔ سوال: اگر پانی حلق میں چلا گیا؟ جواب: روزہ ٹوٹ گیا، قضا کرو، کفارہ نہیں۔ سوال: جنابت کی حالت میں ناک کیسے صاف کروں؟ جواب: غسل سے پہلے مسنون طریقے سے ناک صاف کر لو۔
آج لوگ شاور استعمال کرتے ہیں، پانی زور سے آتا ہے۔ کچھ لوگ خوف کی وجہ سے غسل چھوڑ دیتے ہیں۔ مفتی صاحب کہتے ہیں: “احتیاط سے غسل کرو، روزہ بھی بچاؤ، غسل بھی مکمل کرو۔” سروے (Ramadan Ghusl Survey 2025) کے مطابق 70% لوگ ناک میں پانی ڈالنے سے ڈرتے ہیں — لیکن احتیاط سے ممکن ہے۔
روزے میں دوران غسل ناک میں کہاں تک پانی پہنچائے؟ مفتی طارق مسعود کا فتوٰی ہے کہ ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچانا فرض ہے، لیکن احتیاط سے تاکہ حلق میں نہ جائے۔ سخت ہڈی تک سنت ہے، روزے میں چھوڑ دو۔ غسل اور روزہ دونوں اللہ کی رضا کے لیے ہیں۔ پوسٹ پسند آئی تو شیئر کریں، کمنٹس میں سوالات پوچھیں اور سبسکرائب کریں۔
کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
لیکوریا ہو تو نماز کیسے پڑھیں؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
والدین اور بیوی میں زیادہ حق کس کا ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
مطالعہ کا بہترین وقت: مفتی طارق مسعود کی رہنمائی | شرعی و علمی مشورے
