
عید کی نماز حنفی مسلک میں واجب ہے مردوں پر، جبکہ عورتوں پر سنت مؤکدہ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “عید کی نماز کے لیے نکلو، بوڑھے، جوان، عورتیں حتیٰ کہ حیض والی بھی” (صحیح بخاری)۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو (Mufti Tariq Masood Official، “عید کی نماز اور خواتین”) میں فرماتے ہیں: “یہ حدیث واضح ہے کہ عورتوں کو عیدگاہ جانے کی اجازت اور ترغیب دی گئی تھی۔”
صحابيات رضوان اللہ علیہم عیدگاہ جاتی تھیں، الگ صفوں میں کھڑی ہوتی تھیں۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “حیض والی عورتیں بھی عیدگاہ جائیں، لیکن نماز سے الگ رہیں اور دعا میں شریک ہوں” (بخاری)۔ مفتی صاحب اپنے ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں لکھتے ہیں: “عورتوں کے لیے عید کی نماز گھر میں بھی جائز ہے، لیکن عیدگاہ جانا افضل تھا۔”
والدین اور بیوی میں زیادہ حق کس کا ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
فقہ حنفی میں تین درجے:
مفتی صاحب کی ویڈیو “خواتین اور عید کی نماز” میں واضح رہنمائی:
سوال: کیا لڑکیاں عیدگاہ جا سکتی ہیں؟ جواب: ہاں، اگر پردہ اور الگ جگہ ہو تو سنت ہے۔ سوال: گھر میں عید کی نماز کیسے پڑھیں؟ جواب: دو رکعت نفل، 7+5 تکبیریں، کوئی خطبہ نہیں۔ سوال: حیض والی عورت عیدگاہ جا سکتی ہے؟ جواب: ہاں، دعا کے لیے، نماز سے الگ۔
آج شہروں میں عیدگاہوں میں خواتین کے لیے الگ جگہ کم ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بحث ہوتی ہے کہ لڑکیاں عیدگاہ جائیں یا نہیں۔ مفتی صاحب کہتے ہیں: “جدید دور میں پردہ اور سیکیورٹی کا خیال رکھو، گھر میں نماز بھی مکمل ہے۔” سروے (Women in Eid Practices 2025) کے مطابق 68% خواتین گھر میں نماز کو ترجیح دیتی ہیں۔
کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
کیا عورتوں کے لیے عید کی نماز پڑھنا ضروری ہے؟ مفتی طارق مسعود کا فتوٰی ہے کہ نہیں ضروری، لیکن سنت ہے۔ اگر عیدگاہ میں پردہ اور سہولت ہو تو جائیں، ورنہ گھر میں دو رکعت نفل پڑھ لیں۔ عید کی خوشی عبادت اور اتحاد میں ہے۔ پوسٹ پسند آئی تو شیئر کریں، کمنٹس میں سوالات پوچھیں اور سبسکرائب کریں۔
