
سلام دوستو! گھر میں جھگڑا ہوا، بیوی غصے میں بولی “میں تمہیں طلاق دیتی ہوں!” — اب شوہر پریشان: کیا طلاق ہو گئی؟ ماں باپ کہتے ہیں “نہیں ہوئی”، سوشل میڈیا پر لوگ کہتے ہیں “ہو گئی”۔ اصل حکم کیا ہے؟ آج مفتی طارق مسعود صاحب کے فتویٰ اور askmuftitariqmasood.com کی روشنی میں واضح، آسان اور مستند جواب دیتے ہیں۔
اسلام میں طلاق کا بنیادی حق شوہر کو ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ” (البقرہ: 229) — طلاق دو بار ہے (یعنی مرد کے پاس)۔
فقہاء کا اتفاق:
شادی کے وقت نکاح نامے میں لکھا جائے:
“میں نے اپنی بیوی کو طلاق کا حق تفویض کیا”
اگر یہ شرط ہو تو عورت اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہے۔ لیکن عام نکاح ناموں میں یہ نہیں ہوتا۔
| صورتحال | حکم | وجہ |
|---|---|---|
| تفویض طلاق نہیں | ❌ طلاق نہیں ہوتی | عورت کو حق ہی نہیں |
| تفویض طلاق ہے | ✅ طلاق ہو جاتی ہے | شوہر نے اختیار دیا |
| غصے میں بولا | ❌ نہیں ہوتی | نیت اور اختیار دونوں نہیں |
| بار بار بولا | ❌ پھر بھی نہیں | حق نہیں تو اثر نہیں |
مفتی صاحب فرماتے ہیں: “عورت کے منہ سے طلاق نکلے تو کنویں میں پتھر پھینکنے جیسا — نہ آواز آتی ہے، نہ اثر ہوتا ہے۔”
عورت طلاق نہیں دے سکتی، لیکن:
یہ عدالت یا قاضی کے ذریعے ہوتا ہے، عورت خود نہیں کر سکتی۔
ایک خاتون نے askmuftitariqmasood.com پر لکھا:
“میں نے غصے میں کہا ‘طلاق لے لو’ — اب میرا شوہر کہتا ہے طلاق ہو گئی۔ کیا کروں؟”
مفتی صاحب کا جواب:
“طلاق نہیں ہوئی۔ عورت کے کہنے سے طلاق نہیں ہوتی جب تک تفویض نہ ہو۔ دونوں مل کر رہو، توبہ کرو، اور آئندہ غصے پر قابو رکھو۔”
پھر عورت کہے:
لیکن احتیاطاً لکھوائیں نہیں، کیونکہ غلط استعمال ہو سکتا ہے۔
| شخص | طلاق دے سکتا ہے؟ | شرط |
|---|---|---|
| شوہر | ✅ ہاں | بس کہہ دے |
| عورت | ❌ نہیں | الا تفویض |
| عدالت | ✅ ہاں | خلع/فسخ |
| ولی | ❌ نہیں | الا مجبوراً |
askmuftitariqmasood.com پر مفتی صاحب فرماتے ہیں:
“عورت کے منہ سے طلاق نکلنے سے طلاق نہیں ہوتی جب تک شوہر نے تفویضِ طلاق نہ کیا ہو۔ یہ بات فقہاء کا متفقہ قول ہے۔ اگر کوئی کہے ہو گئی تو وہ جھوٹ بول رہا ہے۔”
ویڈیو بھی وہاں موجود ہے، ضرور دیکھیں۔
بہنو اور بھائیو، عورت طلاق نہیں دے سکتی۔ اگر غلطی سے بول دیا تو پریشان نہ ہوں، طلاق نہیں ہوئی۔ گھر بچائیں، محبت بڑھائیں، اللہ کی رضا مانگیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “طلاق اور آزادی (غلام آزاد کرنا) اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ حلال چیزیں ہیں۔” (ابو داؤد)
اللہ ہمارے گھروں کو محبت، سکون اور ایمان سے بھر دے۔ اگر کوئی اور سوال ہو جیسے “خلع کیسے کروائیں؟” یا “تفویض طلاق لکھوانا چاہیے؟” — تو askmuftitariqmasood.com پر لکھو یا نیچے کمنٹ کرو۔
(کلمات: ۹۰۸)
متعلقہ مضامین:
