
آج کل بہت سے لوگ وراثت کے مسائل سے پریشان رہتے ہیں، خاص طور پر جب بات نابالغ بچوں کی آتی ہے۔ آپ نے پوچھا ہے کہ اگر کوئی چھوٹا بچہ، جو ابھی بالغ نہیں ہوا، اپنے والد، والدہ یا کسی رشتہ دار کی وراثت کا حقدار بن جائے تو اس کی وراثت کا کیا حکم ہے؟ کیا اسے فوراً حصہ مل سکتا ہے یا اسے بڑا ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے؟ یہ سوال بہت اہم ہے کیونکہ وراثت کی تقسیم میں اگر غلطی ہو جائے تو نہ صرف دنیوی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی اللہ کی عدالت میں جواب دہی کرنی پڑتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: “اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اپنے بچوں کے لیے (وراثت میں) لڑکے کے لیے دو لڑکیوں جتنا حصہ ہے” (سورۃ النساء، آیت 11)۔ اس آیت سے واضح ہے کہ وراثت کی تقسیم اللہ کا حکم ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔
آئیے اس موضوع کو تفصیل سے سمجھتے ہیں، جیسا کہ اسلامی شریعت ہمیں سکھاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “مال کی حفاظت کرو اور اسے ضائع نہ کرو” (حدیث مبارکہ سے ماخوذ)۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مال و دولت کو احتیاط سے سنبھالنا چاہیے، خاص طور پر جب وہ کمزور لوگوں جیسے یتیموں یا نابالغ بچوں کا ہو۔
اسلامی شریعت میں نابالغ کی تعریف وہ بچہ ہے جو بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچا ہو۔ لڑکوں کے لیے یہ عام طور پر 15 سال اور لڑکیوں کے لیے 9 سے 15 سال کے درمیان ہوتی ہے، مگر یہ جسمانی نشوونما پر منحصر ہے۔ جب کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے تو اس کی وراثت فوراً تقسیم ہو جاتی ہے، اور نابالغ کا حصہ بھی اسی وقت قائم ہو جاتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ نابالغ خود اس مال کو سنبھال نہیں سکتا، اس لیے اس کی ملکیت تو اس کی ہوتی ہے لیکن استعمال اور انتظام کی ذمہ داری ولی پر ہوتی ہے۔
ولی کون ہو سکتا ہے؟ عام طور پر یہ بچے کا چچا، دادا، یا کوئی قریبی رشتہ دار ہوتا ہے جو شرعی طور پر اہل ہو۔ اگر کوئی ولی نہ ہو تو عدالت یا شرعی ادارہ اس کی نگرانی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “یتیموں کے مال کو انہیں مت دو جب تک وہ بالغ نہ ہو جائیں، مگر ان کی بھلائی کے لیے” (سورۃ النساء، آیت 6)۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ نابالغ کا مال محفوظ رکھنا اور اسے اس کی ضروریات جیسے تعلیم، کھانا پینا، اور رہائش پر خرچ کرنا جائز ہے، مگر اسے ضائع کرنا یا ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا حرام ہے۔
وراثت کی تقسیم کے لیے پہلے تو تمام وارثوں کی فہرست بنائی جاتی ہے۔ مثلاً اگر ایک شخص فوت ہو جائے اور اس کے پیچھے بیٹا، بیٹی، بیوی اور نابالغ پوتا ہو تو تقسیم قرآن کی ہدایات کے مطابق ہوگی۔ نابالغ پوتے کا حصہ اگر اس کا باپ پہلے فوت ہو چکا ہو تو وہ اپنے دادا کی وراثت میں شامل ہوگا۔
ایک عملی مثال دیکھیں: فرض کریں ایک باپ فوت ہو جاتا ہے اور اس کے پیچھے دو بیٹے اور ایک نابالغ بیٹی ہے۔ بیٹوں کا حصہ دو حصے اور بیٹی کا ایک حصہ ہوگا۔ نابالغ بیٹی کا حصہ فوراً الگ کر دیا جائے گا، مگر اسے اس کی شادی یا بلوغت تک محفوظ رکھا جائے گا۔ اگر ولی اس مال کو کاروبار میں لگائے تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ منافع بخش ہو اور خطرہ کم ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے یتیموں کے مال کی حفاظت پر بہت زور دیا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: “جو شخص یتیم کی کفالت کرے گا، وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا” (صحیح بخاری)۔
اب اگر ولی غلط استعمال کرے تو کیا ہوگا؟ اسلامی شریعت میں یہ سنگین جرم ہے۔ وہ نہ صرف دنیوی عدالت میں سزا کا مستحق ہے بلکہ آخرت میں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔ بہت سے خاندانوں میں دیکھا گیا ہے کہ وراثت کی لڑائی کی وجہ سے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، اس لیے ہمیشہ ایمانداری سے کام کریں۔ ایک مشہور اسلامی کہاوت ہے: “حقوق اللہ کی امانت ہیں، انہیں ادا کرو ورنہ پچھتاؤ گے۔”
لوگ اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ نابالغ کا حصہ بالغوں میں تقسیم کر دیتے ہیں، سوچتے ہیں کہ بچہ چھوٹا ہے، بعد میں دیکھیں گے۔ یہ سراسر غلط ہے اور گناہ ہے۔ ایک اور غلطی یہ ہے کہ مال کو بغیر حساب کتاب خرچ کیا جاتا ہے۔ حل یہ ہے کہ وراثت کی تقسیم کے وقت ایک شرعی عالم یا مفتی سے مشورہ کریں۔
مزید برآں، جدید دور میں بینک اکاؤنٹس، جائیداد اور شیئرز کی صورت میں وراثت ہوتی ہے۔ نابالغ کا حصہ الگ اکاؤنٹ میں رکھیں اور اس کی نگرانی کریں۔ اگر جائیداد ہو تو اسے کرائے پر دے کر آمدنی نابالغ کی بھلائی پر لگائیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مال کو بڑھانا جائز ہے مگر حرام طریقوں سے نہیں۔
وراثت کی تقسیم خاندان کو متحد رکھتی ہے جب تک کہ یہ اللہ کے حکم کے مطابق ہو۔ بہت سے لوگوں کو یہ پریشانی ہوتی ہے کہ نابالغ بچے کی پرورش کیسے ہوگی اگر مال نہ ہو۔ یاد رکھیں، اللہ رزق دینے والا ہے۔ ایک حدیث میں ہے: “اللہ کی راہ میں خرچ کرو، اللہ تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا” (صحیح مسلم)۔ اس لیے نابالغ کے مال کی حفاظت کرتے ہوئے اس کی تعلیم اور تربیت پر توجہ دیں تاکہ وہ بالغ ہو کر ایک اچھا مسلمان بنے۔
اگر آپ کو اس موضوع پر مزید تفصیل چاہیے یا کوئی خاص کیس ہے جیسے کہ نابالغ یتیم کی وراثت، یا لڑکی کی وراثت کا حکم، تو ضرور ویب سائٹ askmuftitariqmasood.com پر جائیں۔ یہ ویب سائٹ مفتی طارق مسعود صاحب کی ہے جو مختلف موضوعات پر شکوک و شبہات دور کرتے ہیں۔ وہاں ویڈیوز، فتاویٰ اور آرٹیکلز دستیاب ہیں جو روزمرہ کے مسائل کو اسلامی نقطہ نظر سے حل کرتے ہیں۔
آخر میں، یاد رکھیں کہ وراثت اللہ کا حکم ہے، اسے ایمانداری سے تقسیم کریں۔ ایک اسلامی مثل ہے: “جو اللہ کے حکم کی پیروی کرے گا، اللہ اسے دونوں جہانوں میں کامیاب کرے گا۔” اس لیے ہمیشہ شریعت کی روشنی میں چلیں اور خاندان میں امن قائم رکھیں۔ اگر کوئی سوال ہو تو پوچھیں، اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین۔
(کلمات: ۹۵۰)
Links to more related articles:
