
بھائی، ایک بہت عام سوال ہے کہ کیا زکوٰۃ کا مال مسجد کے باتھ روم، وضو خانے یا ٹائلوں وغیرہ میں لگایا جا سکتا ہے؟ خاص طور پر جب مسجد کی عمارت پرانی ہو جائے، دیواریں ٹوٹ جائیں، یا صفائی کا نظام خراب ہو تو لوگ سوچتے ہیں کہ زکوٰۃ سے یہ کام کروا لیں۔ لیکن کیا یہ جائز ہے؟ آئیے قرآن، حدیث اور فقہاء کے اقوال کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔ ویسے یہ سوال askmuftitariqmasood.com پر بھی بہت آیا ہے، جہاں مفتی طارق مسعود صاحب نے تفصیل سے جواب دیا۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ (آیت 60) میں زکوٰۃ کے آٹھ مستحقین بیان کیے:
اب سوال یہ ہے کہ “فی سبیل اللہ” کا مطلب کیا ہے؟ کیا اس میں مسجد کا باتھ روم بھی شامل ہے؟
حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی سب مکاتب فکر کا اتفاق ہے کہ زکوٰۃ کا مال عام مفاد کی چیزوں (جیسے مسجد، سکول، ہسپتال، پل وغیرہ) میں نہیں لگایا جا سکتا۔ کیونکہ زکوٰۃ کا تملیک (یعنی مالک بنانا) ضروری ہے۔ یعنی زکوٰۃ مستحق کے ہاتھ میں دی جائے، نہ کہ عمارت میں لگائی جائے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “زکوٰۃ سے مسجد کی تعمیر، قبرستان کی دیوار یا پانی کا ٹینک بنانا جائز نہیں۔”
فقہاء نے “فی سبیل اللہ” کو جہاد فی سبیل اللہ یا حج کے اخراجات تک محدود کیا ہے۔ کچھ نے طلبہ علوم دین کے وظائف کو بھی شامل کیا، لیکن مسجد کی مرمت کو نہیں۔
اگر کوئی شخص زکوٰۃ سے ٹائلے خرید کر مسجد میں لگوا دے، تو ٹائلے تو مسجد کی ہو گئیں، مستحق کے ہاتھ میں کچھ نہیں آیا۔ یہ تملیک کی شرط کے خلاف ہے۔ لہٰذا زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
مسجد کی مرمت، باتھ روم، وضو خانہ، پنکھے، قالینیں — یہ سب صدقہ جاریہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان کے لیے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین کے: صدقہ جاریہ، علم نافع، نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔” (مسلم)
مسجد کا باتھ روم بنانا صدقہ جاریہ ہے، لیکن زکوٰۃ نہیں۔
اگر کسی نے زکوٰۃ کا مال مسجد کے باتھ روم میں لگا دیا تو:
| کام | جائز؟ | متبادل |
|---|---|---|
| زکوٰۃ سے باتھ روم بنانا | ❌ نہیں | صدقہ نفل |
| زکوٰۃ سے غریب کو ٹائلے دینا | ✅ ہاں | وہ خود استعمال کرے |
| مسجد کے لیے الگ فنڈ بنانا | ✅ ہاں | وقف/چندہ |
| زکوٰۃ سے طالب علم کا وظیفہ | ✅ (کچھ فقہاء) | شرط یہ کہ وہ مستحق ہو |
آپ askmuftitariqmasood.com پر جا کر ویڈیو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ وہاں ہر قسم کے شکوک دور کیے جاتے ہیں۔
بھائی، زکوٰۃ غریب کا حق ہے، اسے غریب تک پہنچائیں۔ مسجد کی بہتری کے لیے الگ سے صدقہ جاریہ کا اہتمام کریں۔ دونوں کا الگ الگ ثواب ہے۔ جیسے فرمایا:
“جو شخص اللہ کے راستے میں ایک درہم خرچ کرے، اللہ اسے ستر گنا بڑھا کر دے گا۔”
اللہ ہم سب کو صحیح عمل کی توفیق دے۔ اگر کوئی اور سوال ہو تو askmuftitariqmasood.com پر لکھیں یا نیچے کمنٹ کریں۔
(کلمات: ۸۹۷)
متعلقہ سوالات:
More Posts to see:
: https://askmuftitariqmasood.com/2025/10/30/nabaligh-ki-virasat-ka-hukum/
: https://askmuftitariqmasood.com/2025/10/27/میری-امی-کے-ساتھ…عمرہ،-بہن-بھی-سا/
: https://askmuftitariqmasood.com/2025/10/27/دیوالی-میں-پٹاخو…ان-لگانا-مفتی-طا/
: https://askmuftitariqmasood.com/2025/10/27/روزے-کی-حالت-میں…نی-سے-روزہ-ٹوٹنا/
