
اے یار! مسجد میں داخل ہوئے، نماز کی صف میں کھڑے ہو، اچانک فون بج اٹھا — “ہیلو، ہاں بولو!” — پوری مسجد کی توجہ ہٹ گئی، امام صاحب کی پیشانی پر بل، اور دل میں خیال: کیا یہ جائز تھا؟ آج مفتی طارق مسعود صاحب کے فتویٰ اور askmuftitariqmasood.com سے قرآن، حدیث، فقہاء کی روشنی میں واضح جواب دیتے ہیں کہ مسجد میں موبائل کا استعمال کتنا جائز ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“مساجد اللہ کے لیے ہیں، تو ان میں اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔” (الجن: 18)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مسجد کو بازار نہ بناؤ۔” (مسلم)
یعنی مسجد عبادت، سکون، ذکر کی جگہ ہے — نہ کہ فون کالز، واٹس ایپ، انسٹاگرام کی۔
| استعمال | حکم | وجہ |
|---|---|---|
| رنگ بجانا/کال اٹھانا | ❌ حرام | نماز میں خلل، ادب کی خلاف ورزی |
| سائلنٹ پر رکھنا | ✅ جائز | کوئی حرج نہیں |
| قرآن ایپ سے تلاوت | ✅ جائز (مستحب) | شرط: آواز نہ ہو، توجہ نہ ہٹے |
| دعا/درود ایپ استعمال | ✅ جائز | گھر سے تیار کر کے آئیں |
| واٹس ایپ/فیس بک | ❌ مکروہ تحریمی | دنیاوی باتیں، وقت ضائع |
مفتی صاحب فرماتے ہیں: “مسجد میں موبائل سائلنٹ پر رکھو، یا گھر چھوڑ دو۔ اگر قرآن پڑھنا ہے تو مصحف اٹھاؤ، ایپ نہ کھولو۔”
“نماز میں فون بج گیا، امام نے ڈانٹا۔ اب کیا کروں؟” جواب: توبہ کرو، فون سائلنٹ کرو، یا باہر چھوڑو۔
“مسجد میں قرآن ایپ سے پڑھتا ہوں، کیونکہ یاد نہیں ہوتا۔” جواب: جائز ہے، لیکن آواز بند، اور جلدی پڑھو۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں آواز سنتے تو فوراً روکتے — آج موبائل کی رِنگ ٹون بھی آواز ہے۔
askmuftitariqmasood.com پر مفتی صاحب فرماتے ہیں:
“مسجد میں موبائل کا غیر ضروری استعمال مکروہ ہے، رِنگ بجانا حرام۔ سائلنٹ رکھو، قرآن ایپ جائز لیکن بہتر ہے مصحف اٹھاؤ۔ مسجد اللہ کا گھر ہے، دنیا کا دفتر نہیں۔”
ویڈیو لنک وہاں ہے، ضرور دیکھیں۔
بھائی، مسجد میں موبائل سائلنٹ یا باہر۔ قرآن، دعا، ذکر — یہی اصل ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص مسجد میں اللہ کا ذکر کرے، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے۔” (مسلم)
اللہ ہمیں مسجد کا ادب اور نماز کی خشوع دے۔ اگر کوئی سوال ہو جیسے “مسجد میں سمارٹ واچ؟” یا “قرآن ایپ کی بہترین سیٹنگ؟” — تو askmuftitariqmasood.com پر لکھو یا نیچے کمنٹ کرو۔
(کلمات: ۹۱۸)
متعلقہ ٹپس:
