
اے بھائی بہنو! بچہ بیمار، ماں باپ کا انتقال، نوکری چھوٹ گئی — آنکھوں سے آنسو نکل آئے، دل رو پڑا — اب خیال آتا ہے: کیا یہ گناہ ہے؟ اللہ ناراض تو نہیں؟ بالکل نہیں! آج مفتی طارق مسعود صاحب اور askmuftitariqmasood.com کی روشنی میں قرآن، حدیث اور انبیاء کے واقعات سے ثابت کرتے ہیں کہ پریشانی میں رونا جائز ہے، بلکہ رحمت کا سبب ہے — لیکن ایک حد تک۔ مکمل تفصیل، مثالیں اور حدود بھی بتائیں گے۔
| قسم | مثال | حکم |
|---|---|---|
| رحمت والا رونا | خاموش آنسو، اللہ سے مانگنا | ✅ مستحب، ثواب |
| شکایت والا رونا | چیخنا، کپڑے پھاڑنا، اللہ پر شکوہ | ❌ حرام، گناہ |
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “جو صبر کریں اور کہیں ‘ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں’ — ان پر رحمتیں اور رحمت نازل ہوتی ہے۔” (البقرہ: 156)
مفتی صاحب فرماتے ہیں: “رونا فطرت ہے، گناہ نہیں — لیکن چیخنا، نوحہ کرنا شیطان کا طریقہ ہے۔”
لیکوریا ہو تو نماز کیسے پڑھیں؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
| حد | کیا کریں | کیا نہ کریں |
|---|---|---|
| خاموش رونا | ✅ آنسو بہاؤ | چیخنا |
| اللہ سے مانگنا | ✅ دعا کرو | اللہ پر شکوہ |
| صبر کی دعا | ✅ انا للہ پڑھو | “کیوں ہوا؟” کہنا |
| دوسروں کو تسلی | ✅ دوسروں کو صبر سکھاؤ | نوحہ کرنا |
| وقت کی حد | ✅ چند دن | سالوں تک ماتم |
“بیٹی کی شادی ٹوٹ گئی، رات بھر روتی ہوں — گناہ؟” جواب: “نہیں! خاموش روؤ، دعا کرو — اللہ بہتر دے گا۔”
“والد کی وفات پر چیخا — اب توبہ؟” جواب: “توبہ کرو، استغفار کرو — اللہ معاف کرے گا۔”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص اللہ کے لیے روئے، اس کی آنکھیں جنت میں نہیں روئیں گی۔” (طبرانی)
ہاں، فطرتاً — لیکن حد میں رہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کی وفات پر روتے ہوئے کہا: “اے اللہ کے رسول! اب کون ہماری خبر لے گا؟” — لیکن نوحہ نہیں کیا۔
askmuftitariqmasood.com پر مفتی صاحب فرماتے ہیں:
“پریشانی میں خاموش رونا جائز اور ثواب کا باعث ہے، لیکن چیخنا، نوحہ کرنا، کپڑے پھاڑنا حرام ہے۔ رونا دل کی صفائی ہے، لیکن صبر ایمان کی نشانی ہے۔”
ویڈیو لنک وہاں موجود ہے۔
بہنو اور بھائیو، رونا گناہ نہیں، رحمت ہے — بس خاموشی سے، اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے۔
یاد رکھو: “اللہ کے نزدیک سب سے بہتر بندہ وہ جو مصیبت میں صبر کرے اور روتے ہوئے بھی اللہ کا شکر کرے۔”
اللہ ہم سب کے آنسوؤں کو رحمت میں بدل دے۔ اگر کوئی سوال ہو جیسے “نوحہ کیسے روکیں؟” یا “صبر کی دعا؟” — تو askmuftitariqmasood.com پر لکھو یا نیچے کمنٹ کرو۔
(کلمات: ۹۱۲)
متعلقہ تسلیاں:
