
اے بہنو! بچہ پیدا ہوا، نفاس چل رہا ہے، گھر میں اذان کی آواز آئی — دل کہتا ہے اللہ أكبر کہوں، لیکن جسم کمزور، خون جاری، اور دماغ میں سوال: کیا مجھے جواب دینا پڑے گا؟ نہ دوں تو گناہ؟ یہ پریشانی ہر ماں کو ہوتی ہے۔ آج مفتی طارق مسعود صاحب کے فتویٰ اور askmuftitariqmasood.com کی روشنی میں سادہ، مستند اور دل کو سکون دینے والا جواب دیتے ہیں۔
نفاس = بچے کی پیدائش کے بعد خون آنا
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت: “عورتیں نفاس میں 40 دن بیٹھتی تھیں، نبی ﷺ نے منع نہ فرمایا۔” (ابو داؤد)
اذان کا جواب سننے والے پر واجب ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ پاک ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب اذان سنو تو مؤذن کے مانند کہو۔” (بخاری)
لیکن حائضہ اور نفاس والی نماز، روزہ، قرآن چھونے سے معاف ہیں — تو اذان کا جواب؟
| مکتب فکر | حیض/نفاس میں اذان کا جواب |
|---|---|
| حنفی | ✅ جائز اور مستحب، فرض نہیں |
| شافعی | ✅ مستحب |
| مالکی | ✅ جائز |
| حنبلی | ✅ مستحب |
نتیجہ: فرض نہیں، لیکن ثواب ضرور ملتا ہے۔
| عمل | حکم | ثواب |
|---|---|---|
| زبان سے جواب دے (اللہ أكبر…) | ✅ مستحب | مکمل |
| دل سے نیت کرے | ✅ جائز | اچھا |
| درود پڑھے | ✅ مستحب | بہت اچھا |
| خاموش رہے | ✅ جائز | کوئی گناہ نہیں |
مفتی صاحب فرماتے ہیں: “نفاس والی اگر دل سے اللہ أكبر کہہ لے، اسے ثواب ملے گا۔ زبان سے نہ کہے تو بھی کوئی حرج نہیں۔”
“نفاس میں ہوں، اذان سن کر رونے لگتی ہوں کہ جواب نہیں دے سکتی۔ کیا گناہ ہوگا؟” جواب: “نہیں! تم تو اللہ کی طرف سے معاف ہو۔ دل سے کہو، ثواب لکھا جائے گا۔”
“فجر کی اذان میں نیند کھلتی ہے، جواب دیتی ہوں — کیا درست؟” جواب: “بہت اچھا! مستحب عمل ہے۔”
| کام | جائز؟ | متبادل |
|---|---|---|
| اذان کا جواب | ✅ ہاں | دل سے بھی |
| قرآن پڑھنا | ❌ نہیں | ترجمہ پڑھو |
| مسجد جانا | ❌ نہیں | گھر میں دعا |
| درود شریف | ✅ ہاں | جتنا چاہے |
| ذکر اذکار | ✅ ہاں | تسبیح پڑھو |
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ماں اپنے بچے کو دودھ پلائے تو ہر گھونٹ پر نیکی لکھی جاتی ہے۔” (طبرانی)
askmuftitariqmasood.com پر مفتی صاحب فرماتے ہیں:
“نفاس اور حیض کی عورت پر اذان کا جواب فرض نہیں، لیکن اگر زبان سے یا دل سے کہہ لے تو ثواب ملے گا۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ وہ کمزور حالت میں بھی عبادت قبول کرتا ہے۔”
ویڈیو لنک وہاں ہے، ضرور سنیں۔
بہنو، نفاس کوئی سزا نہیں، اللہ کی طرف سے آرام کا وقت ہے۔ اذان سنو، دل سے جواب دو، ثواب لو، اور اللہ سے پاکی مانگو۔
یاد رکھو: “اللہ تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالتا مگر تمہاری طاقت کے مطابق۔” (البقرہ: 286)
اللہ سب ماؤں کو صحت، ایمان اور جنت دے۔ اگر کوئی سوال ہو جیسے “نفاس میں دعا کیسے مانگیں؟” یا “بچے کا عقيقہ کب کریں؟” — تو askmuftitariqmasood.com پر لکھو یا نیچے کمنٹ کرو۔
(کلمات: ۹۰۴)
متعلقہ گائیڈز:
