سگے بھائی کو زکوٰۃ دینا — کیا یہ جائز ہے؟
یہ سوال اکثر گھروں میں اٹھتا ہے:
اگر ہمارا سگا بھائی مالی طور پر کمزور ہے تو کیا ہم اُسے زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟
کیا رشتہ دار ہونے سے وہ مستحق نہیں رہتا؟
یا پھر زکوٰۃ صرف اجنبی غریبوں کے لیے مخصوص ہے؟
یہ وہ الجھن ہے جو اکثر لوگ احساس، محبت، اور شریعت کے بیچ الجھا کر بیٹھ جاتے ہیں۔
قرآن و سنت کی روشنی میں اصول
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ…”
(سورۃ التوبہ: 60)
“زکوٰۃ صرف فقراء، مساکین اور ان لوگوں کے لیے ہے…”
یہ آیت زکوٰۃ کے مستحقین کی فہرست واضح کر دیتی ہے۔
یعنی زکوٰۃ کا اصل حق دار وہ ہے جو مالدار نہ ہو اور اپنی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکتا ہو۔
رشتہ داری زکوٰۃ کے حق کو ختم نہیں کرتی
مفتی طارق مسعود صاحب نے AskMuftiTariqMasood.com پر وضاحت کی ہے کہ:
اگر کوئی سگا بھائی فقیر یا مسکین ہو، اور آپ کے زیرِ کفالت نہ ہو (یعنی آپ پر اس کا خرچ شرعاً لازم نہ ہو)، تو اسے زکوٰۃ دینا جائز ہی نہیں بلکہ فضیلت والا عمل ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
“الصدقة على المسكين صدقة، وعلى ذي الرحم اثنتان: صدقة وصلة.”
(ترمذی)
“مسکین پر صدقہ ایک صدقہ ہے، اور رشتہ دار پر صدقہ دوہرا اجر رکھتا ہے: ایک صدقہ اور ایک صلہ رحمی۔”
یعنی اگر آپ سگے بھائی کو زکوٰۃ دیتے ہیں، تو آپ کو دو ثواب ملتے ہیں —
ایک زکوٰۃ کا، اور دوسرا رشتہ جوڑنے کا۔
کن رشتہ داروں کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی؟
البتہ شریعت نے چند قریبی رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینے سے روکا ہے۔
یعنی:
-
والدین اور دادا دادی — کیونکہ ان پر خرچ کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔
-
بیوی — شوہر پر اس کا نان و نفقہ واجب ہے۔
-
اولاد — کیونکہ باپ پر ان کی کفالت لازم ہے۔
ان کے علاوہ بھائی، بہن، چچا، خالہ، بھتیجا، بھانجا، وغیرہ اگر غریب ہوں تو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔
نیت کی پاکیزگی
زکوٰۃ دیتے وقت نیت یہ ہونی چاہیے کہ یہ اللہ کے حکم کی تعمیل ہے، نہ کہ احسان یا شرمندگی دلانے کا عمل۔
اگر بھائی واقعی ضرورت مند ہے تو زکوٰۃ کے ذریعے اللہ کی رضا اور بھائی کی مدد دونوں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
یاد رہے:
اگر آپ زکوٰۃ دے کر دل دکھائیں یا احساسِ برتری جتائیں، تو ثواب ختم ہو جاتا ہے۔
“لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ”
(البقرہ: 264)
“اپنے صدقات احسان جتا کر اور دکھ دے کر ضائع نہ کرو۔”
حصہ دوئم: MTM Marriage Bureau — بھائی چارے اور نکاح کی خیر کی طرف ایک قدم
اسلام ہمیں صرف مالی مدد نہیں سکھاتا، بلکہ خاندانی اور سماجی رشتے مضبوط کرنے کی بھی تلقین کرتا ہے۔
اسی سوچ کے ساتھ مفتی طارق مسعود صاحب نے MTM Marriage Bureau کا قیام کیا تاکہ نکاح جیسے پاکیزہ رشتے کو آسان اور شرعی انداز میں عام کیا جا سکے۔
MTM Marriage Bureau کا مقصد
یہ ادارہ ان مسلمانوں کے لیے ہے جو نکاح کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق انجام دینا چاہتے ہیں۔
یہاں نہ غیر شرعی بات چیت، نہ تصاویر، نہ نمود و نمائش — صرف سیدھی، صاف، اسلامی بنیادوں پر نکاحی رہنمائی۔
خدمات
-
اسلامی مشاورت: رشتہ طے کرنے سے پہلے دینی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔
-
پردے اور رازداری کا خیال: خواتین کی عزت اور حیا کی حفاظت اولین ترجیح۔
-
اہلِ ایمان جوڑوں کی تلاش: دین داری اور کردار کی بنیاد پر موزوں میچنگ۔
-
نکاح کی شرعی رہنمائی: خطبہ، مہر، اور شروط کے بارے میں مکمل مشاورت۔
کن کے لیے بہترین ہے؟
-
وہ مسلمان نوجوان جو سنتِ نکاح کے ذریعے پاکیزگی چاہتے ہیں۔
-
وہ والدین جو اپنی اولاد کا رشتہ شرعی طریقے سے طے کرنا چاہتے ہیں۔
-
وہ خاندان جو دینی ماحول میں رشتہ ڈھونڈنا چاہتے ہیں۔
زکوٰۃ اور نکاح — دو نیک اعمال
زکوٰۃ دینے سے مسلمانوں کی مدد ہوتی ہے،
اور نکاح کرنے سے امت کے ایمان اور کردار کی حفاظت۔
یہ دونوں اعمال مل کر معاشرے کو عدل، پاکیزگی، اور محبت کی راہ پر لے آتے ہیں۔
جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
“مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، نُودِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ”
(بخاری)
“جو شخص اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے، اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جاتا ہے۔”
اسی طرح جو سنت کے مطابق نکاح کرتا ہے، وہ بھی اللہ کے خاص قرب کے مستحق بنتا ہے۔
والدین اور بیوی میں زیادہ حق کس کا ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
کیا تعویز لٹکانا شرک ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
مطالعہ کا بہترین وقت: مفتی طارق مسعود کی رہنمائی | شرعی و علمی مشورے
کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
Tags: زکوٰۃ، سگا بھائی، زکوٰۃ کے مستحق، صدقہ، مفتی طارق مسعود، MTM Marriage Bureau، اسلامی نکاح، صلہ رحمی
مزید اسلامی رہنمائی کے لیے وزٹ کریں: AskMuftiTariqMasood.com
نکاح اور رشتہ جاتی خدمات کے لیے وزٹ کریں: MTM Marriage Bureau

