Mufti tariq masood website logo officially
بیوی کو والدین سے ملنے سے روکنا

Biwi ko waldaan se rokny wala shohar zalim hai?

askmufti
-
November 2, 2025

بیوی کو والدین سے ملنے سے روکنا — شرعی اور اخلاقی جائزہ

لوگ عام طور پر پوچھتے ہیں: کیا شوہر کا اپنی بیوی کو اس کے والدین یا سسرال سے ملنے سے روکنا جائز ہے؟ کیا یہ اختیار شوہر کے پاس ہے یا اس میں ظلم کا عنصر ہے؟ یہ سوال گھر اور معاشرے کے بیچ کھڑے بہت سے جذبوں کا عکس ہوتا ہے — تحفظ، حسد، ذمّہ داری اور محبت۔ شریعت اس معاملے میں واضح رہنمائی دیتی ہے، اور مفتی طارق مسعود صاحب نے بھی AskMuftiTariqMasood.com پر اسی تناظر میں مشورے دیے ہیں کہ ہمیں انصاف، محبت اور حدودِ شرع کی روشنی میں فیصلے کرنے چاہئیں۔

بیوی اور والدین کے حقوق — شریعت کا توازن

اسلام نے خاندان کے رشتوں کو بہت اہمیت دی ہے۔ قرآن و سنت میں والدین کی خدمت اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک بارہا ذکر ہوا ہے:

“وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا” — (سورۃ الإسراء)

اسی وقت، شادی کے بندھن نے شوہر اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ حقوق اور فرائض دیے ہیں۔ شوہر کا فرض ہے کہ وہ بیوی کا لحاظ کرے، اس کی عزت اور آزادی کو پامال نہ کرے۔ بیوی کا فرض ہے کہ وہ گھر اور شوہر کی حدود کا لحاظ رکھے۔ دونوں میں توازن قائم کرنا شریعت کی تاکید ہے۔

کب روکنا جائز ہوسکتا ہے؟

شرعی طور پر کوئی شوہر اپنی بیوی کو والدین سے کُلّی طور پر منع نہیں کر سکتا، مگر چند مخصوص حالات میں محدود ملاقاتوں یا وقتِ ملاقات میں احتیاط شرعی طور پر جائز اور ضروری بھی ہو سکتی ہے، مثلاً:

  • اگر والدین یا سسرال وہی افراد ہوں جو بیوی کو نقصان پہنچا رہے ہوں (جس میں جسمانی تشدد، ذہنی آزار، شرعی حدود کی خلاف ورزیاں شامل ہوں) اور فوری حفاظت کی ضرورت ہو؛

  • اگر ملاقات سے گھر کا امن و سکون ٹوٹنے کا واضح خطرہ ہو اور مفاہمت کے تمام راستے ناکام ہو چکے ہوں؛

  • یا جب کوئی واضح شرعی یا اخلاقی حد عبور ہو رہی ہو جسے روکا جانا لازمی ہو (مثلاً غیر محرم کے ساتھ بے حیائی یا ایسے معاملات جو نکاح کی پاسداری میں خلل ڈالیں)۔

ایسے معاملات میں روکنا ایک وقتی، ضروری، اور مناسب اقدام ہونا چاہیے، نہ کہ مستقل کنٹرول یا تسلط۔ مفتی طارق مسعود کے مشورے میں بھی یہی بات ملتی ہے کہ روک کو حکمت، مشاورت اور اصلاح کے ساتھ استعمال کیا جائے، نہ کہ جذباتی انتقام یا غصے کی ناساز حرکت کے طور پر۔ (حوالہ: AskMuftiTariqMasood.com)

کب یہ ظلم بنتا ہے؟

اگر شوہر بلا وجہ، بغیر مشورے اور بغیر کسی مبرّر سبب کے اپنی بیوی کو والدین سے ملنے سے روکے، تو یہ واضح طور پر ظلم ہے۔ ظلم کی پہچان عام نشانیوں سے ہوتی ہے:

  • مستقل پابندی جو بیوی کی سماجی اور نفسیاتی صحت کو متاثر کرے؛

  • مالی یا جذباتی کنٹرول جو بیوی کو خاندان یا دوستوں سے کٹ دے؛

  • زبردستی یا دھمکی کا استعمال؛

  • شرعی حدود کا برا استعمال (مثلاً بیوی کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرنا)۔

اسلام میں ظلم کی سخت ممانعت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونا ضروری ہے، اور گھر کے اندر بھی عدل قائم رکھنا مرد کا فرض ہے۔ اگر کوئی شوہر اس طرح برتاؤ کرے تو بیوی کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ سب سے پہلے نرمی، مشاورت، اور درمیانی راستے تلاش کرے؛ پھر اگر حل نہ ہو تو قریبی شریف رشتہ دار یا عالمِ دین سے رجوع کرے، اور آخر میں عدالتی یا سماجی مدد حاصل کرے۔

عملی رہنمائی — مشاورت اور حل

  1. پُر سکون گفتگو: اکثر معاملات غلط فہمی کی وجہ سے بڑھتے ہیں۔ بیٹھ کر بات کریں، ایک دوسرے کے خوف اور وجوہات سنیں۔

  2. واضح حدود مقرر کریں: ملاقات کے اوقات، مقامات، اور شرائط پر اتفاق کریں تاکہ اعتماد بڑھے۔

  3. دینی مشورہ لیں: خاندان کے معاملے میں کوئی قابلِ اعتماد عالم یا مشیر مدرستہ طور پر ثالثی کرے۔ AskMuftiTariqMasood.com جیسے معتبر ماخذ اس میں راہنمائی دیتے ہیں۔

  4. تحفظی اقدامات اگر ضروری ہوں: اگر کسی فریق کی صحت یا عزت کو خطرہ ہو تو وقتی پابندی یا قانونی اقدام جائز ہو سکتا ہے۔

  5. صلۃ رحمی کو زندہ رکھیں: رشتہ داروں کے ساتھ نرمی اور حسنِ سلوک رکھیے — مگر یہ بھی یاد رکھیں کہ ہر رشتہ قربانی کا تقاضا نہیں کرتا جب تک آپکی عزت اور ایمان محفوظ ہو۔


حصہ دوئم: MTM Marriage Bureau — رشتہ، مشاورت اور فیملی ہارمونی کا اسلامی حل

گھر کے اندر تعلقات میں توازن اور ہمدردی لانا آسان نہیں، مگر جب نکاح کو سنتِ نبوی کے مطابق سمجھا جائے تو زیادہ حل ممکن ہیں۔ اسی فکر کے تحت مفتی طارق مسعود صاحب نے MTM Marriage Bureau جیسا پروجیکٹ پیش کیا ہے تاکہ نکاح اور رشتہ داریوں میں اسلامی رہنمائی، اخلاقی تربیت، اور مشاورت میسر ہو۔

MTM Marriage Bureau کا نقطۂ نظر

  • نکاح کو عبادت سمجھنا: شادی کو دنیاوی سودا نہیں بلکہ اللہ کی نازل کردہ سنت سمجھ کر اس کا انتظام کیا جاتا ہے۔

  • خاندانی ہم آہنگی: شادی کے بعد خاندان کے اندر مسائل کا سدِ باب کرنے کے لیے مشاورت اور تربیت دی جاتی ہے۔

  • شرعی رہنمائی: تعلقات کے حساس مسائل میں فقہی اور عملی حل فراہم کیے جاتے ہیں۔

خدمات — کن چیزوں میں مدد ملتی ہے؟

  1. پری میرج اور پوسٹ میرج مشاورت: شادی سے پہلے اور بعد میں جوڑوں کو رہنمائی دی جاتی ہے—خصوصاً حدود، حقوق، اور فریضے سمجھائے جاتے ہیں۔

  2. ثالثی اور فیملی میڈیئیشن: جب شوہر اور بیوی کے بیچ مسلئہ ہو تو بیچ کا ثالث فراہم کیا جاتا ہے جو اسلامی اصولوں کے مطابق ثالثی کرے۔

  3. تعلیمی ورکشاپس: نیک رویہ، صبر، اور میاں بیوی کے حقوق و فرائض پر تربیتی نشستیں۔

  4. آن لائن اور آف لائن سہولت: دور دراز علاقوں کے لیے آن لائن مشاورت، اور قریبی علاقوں کے لیے ذاتی ملاقاتیں۔

  5. رازداری اور وقار: خواتین کی عزت و پردہ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے—کوئی بھی عمل نمائش یا شرعی خلاف ورزی کے بغیر ہوتا ہے۔

ہدفِ ناظرین

  • وہ جوڑے جو سنتِ نبوی کے نزدیک رشتہ چاہتے ہیں؛

  • والدین جو اپنی اولاد کے لیے بامقصد اور دینی بنیاد تلاش کر رہے ہیں؛

  • وہ خاندان جو مشکلات کا حل اسلامی دائرے میں چاہتے ہیں؛

  • اور وہ افراد جو چاہتے ہیں کہ ان کے رشتے عدل، محبت، اور شرعی حدود کے مطابق چلیں۔

کیوں MTM مفید ہے برائےِ یہ مسئلہ؟

جب شوہر کی جانب سے بیوی کو والدین سے ملنے سے روکنے جیسا تنازعہ پیدا ہو تو MTM کا قدم ثالثی، صلح، اور دینی رہنمائی لے کر آتا ہے—یعنی جذباتی فیصلے کے بجائے مضبوط شرعی اور اخلاقی بنیاد پر مسئلہ حل کیا جاتا ہے۔ اس سے ظلم کے امکانات کم ہوتے ہیں اور رشتہ داریوں کا صدقہ جاری رہتا ہے۔


نتیجۂ کلام

بیوی کو والدین سے ملنے سے روکنا بذاتِ خود ظلم ہے جب وہ بلا وجہ، مستقل، اور ناجائز ہو۔ مگر کچھ حالات میں محدود اقدام مؤدبانہ اور حفاظتی لحاظ سے جائز بھی ہو سکتا ہے — شرط یہ ہے کہ ہر قدم حکمت، مشاورت، اور شرعی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اگر خود حل ممکن نہ ہو تو معتبر دینی مشیر یا MTM Marriage Bureau جیسی خدمات سے مدد لی جائے، تاکہ گھر میں عدل اور محبت دوبارہ قائم ہو۔

Tags: ازدواجی مسائل، رشتہ داری، شریعت، مشاورت، مفتی طارق مسعود، MTM Marriage Bureau، بیوی کے حقوق، والدین کا حق

“مزید اسلامی رہنمائی کے لیے وزٹ کریں: AskMuftiTariqMasood.com, نکاح اور رشتہ جاتی خدمات کے لیے وزٹ کریں: MTM Marriage Bureau.”

Latest Articles

Consult Mufti Tariq Masood for Islamic guidance on any issue. Contact now for expert advice with secure, private solutions.
Location
  • Jamia Masjid-o-Madras Alfalahiya, Sector#10, North Karachi, Karachi - Pakistan
  • 9118 Basin Ridge ln, Richmond, TX 77407 - United States
Term Of Use
NO © Copyright - Share As Much As You Can ! JAZAKALLAH
Privacy Policy
Your Zakat = Someone’s Food for a Month
Assalamu Alaikum,
Ek zakat ka rupaya ek maa ko 30 din ka ration de sakta hai.
MTM Zakat Fund – 100% transparent, verified cases.
“Sadaqah wipes out sin like water extinguishes fire.” (Tirmidhi)
  • Ek maa apne bacchon ke liye roti ka intezar kar rahi hai.
  • Ek mareez dawai ke liye dua maang raha hai...
    Aap ki zakat uski sehat wapas la sakti hai.
  • Ek family ghar khali karne wali hai...
    Aap ki zakat unka chhath bacha sakti hai.
Your Zakat For
Someone’s Medicine
Your Zakat For
Someone’s Food for a Month
Your Zakat For
Someone’s Education
Your Zakat For
Someone’s Rent

Nikah is Half Your Deen – Let’s Complete It Together.

Assalamu Alaikum,
I’ve seen thousands of lives change with one halal rishta.
No games. No fake promises. Just sincere matches, verified families, and barakah from day one.
👉 30 seconds to create your profile
👉 First match shown FREE
👉 100% Shariah-compliant process
The Prophet ﷺ said: “Whoever Allah provides with a righteous wife, Allah has assisted him in half his deen.” (Tirmidhi)
Let’s make that half easy for you.