
یہ جملہ اکثر سننے کو ملتا ہے: “Istakhara har kaam se pehle karna chaheyh?”
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر قدم، ہر فیصلہ—even کپڑے یا جوتے خریدنے سے پہلے—استخارہ لازم ہے۔
دوسری طرف کچھ لوگ اسے صرف بڑے فیصلوں کے لیے مخصوص سمجھتے ہیں۔
تو آخر شریعت کیا کہتی ہے؟
لفظ استخارہ عربی کے لفظ “خیر” سے نکلا ہے، یعنی اللہ سے بھلائی مانگنا۔
نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو فرمایا:
“تم میں سے کوئی جب کسی کام کا ارادہ کرے، تو دو رکعت نماز پڑھے، پھر یہ دعا مانگے…”
(صحیح بخاری)
یعنی استخارہ کسی “جادوئی اشارے” کا نام نہیں، بلکہ اللہ سے خیر کی دعا ہے۔
اصل مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی عقل، تجربے اور مشورے کے ساتھ ساتھ اللہ سے رہنمائی مانگے کہ
“یا اللہ! اگر یہ کام میرے لیے بہتر ہے تو اسے میرے لیے آسان کر دے، ورنہ مجھے اس سے بچا لے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب کے مطابق (حوالہ: AskMuftiTariqMasood.com)،
استخارہ ہر چھوٹی چیز کے لیے فرض یا لازم نہیں۔
نبی ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے اسے اہم اور غیر معمولی فیصلوں کے لیے استعمال کیا:
نکاح
سفر
کاروبار
کسی بڑے عہدے یا ذمہ داری کا قبول کرنا
روزمرہ کے چھوٹے کاموں (جیسے کھانا پکانا، کپڑا خریدنا، یا روزانہ کے معمولات) کے لیے استخارہ کی ضرورت نہیں۔
یہاں دعا، عقل، اور نیت کافی ہیں۔
دو رکعت نفل نماز پڑھیں۔
نیت میں وہ کام رکھیں جس کے بارے میں فیصلہ چاہیے۔
استخارہ کی دعا عربی یا اپنی زبان میں مانگیں۔
پھر اللہ پر معاملہ چھوڑ دیں، اور جو راستہ آسان ہو، اسے قبول کریں۔
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ خواب میں “اشارہ” آئے گا، مگر حقیقت میں استخارہ کا نتیجہ دل کے سکون یا بےچینی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
اگر دل مطمئن ہو جائے، راستہ کھل جائے، تو سمجھیں اللہ کی رضا اسی میں ہے۔
اگر الجھن اور رکاوٹ ہو، تو رُک جانا بہتر۔
اگر پہلی بار استخارہ کے بعد دل مطمئن نہ ہو، تو دوبارہ کرنا جائز ہے۔
نبی ﷺ کے بعض اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ استخارہ سات مرتبہ تک کیا جا سکتا ہے،
لیکن یہ لازم نہیں۔ نیت صاف ہو، تو ایک بار بھی کافی ہے۔
مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں:
“استخارہ دعا ہے، استخبار نہیں۔
یہ فیصلہ بتانے کا نہیں بلکہ دل کو سکون دینے کا ذریعہ ہے۔”
(حوالہ: AskMuftiTariqMasood.com)
یعنی استخارہ میں کوئی “غیبی پیغام” نہیں آتا، بلکہ اللہ دل میں خیر کی طرف جھکاؤ پیدا کر دیتا ہے۔
جو شخص اللہ سے مشورہ مانگتا ہے، وہ کبھی خسارے میں نہیں رہتا۔
نکاح ایسا فیصلہ ہے جس میں استخارہ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
اسی سوچ کے ساتھ مفتی طارق مسعود صاحب نے MTM Marriage Bureau قائم کیا —
ایک ایسا ادارہ جو نکاح اور رشتہ کے معاملات میں شرعی رہنمائی، استخارہ، اور مشاورت فراہم کرتا ہے۔
نکاح کو سنتِ رسول ﷺ کے مطابق عام کرنا۔
ایسے جوڑوں کو ملانا جو دین، اخلاق، اور خلوص میں ہم خیال ہوں۔
نکاح سے پہلے استخارہ، اور نکاح کے بعد مشاورت فراہم کرنا۔
شرعی رہنمائی: رشتے سے پہلے استخارہ اور دینی مشورہ فراہم کیا جاتا ہے۔
عائلی مشاورت: شادی کے بعد پیدا ہونے والے مسائل میں مفتیانِ کرام کی رہنمائی۔
فیملی ہم آہنگی: جوڑوں کو سمجھوتے، صبر اور محبت کی تعلیم۔
پردے کا لحاظ: خواتین کی رازداری اور وقار کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔
عالمی رسائی: بیرون ملک رہنے والے مسلمانوں کے لیے آن لائن سہولت۔
نکاح زندگی کا بڑا فیصلہ ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب جذبات، خاندان اور مستقبل سب ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔
اسی لیے استخارہ اس مرحلے پر اللہ سے رہنمائی کا دروازہ کھولتا ہے۔
MTM Marriage Bureau اسی عمل کو آسان اور شرعی انداز میں انجام دیتا ہے،
تاکہ رشتے دین اور عقل دونوں کی بنیاد پر طے ہوں۔
“Istakhara har kaam se pehle karna chaheyh?”
نہیں، ہر چھوٹے کام کے لیے استخارہ ضروری نہیں۔
یہ ان فیصلوں کے لیے کیا جاتا ہے جو زندگی کی سمت بدل سکتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ استخارہ کو اللہ سے خیر مانگنے کا ذریعہ سمجھیں،
نہ کہ قسمت کا “اشارہ” پانے کا طریقہ۔
اور جب فیصلہ نکاح یا خاندان سے متعلق ہو، تو شرعی رہنمائی کے لیے
AskMuftiTariqMasood.com اور MTM Marriage Bureau بہترین معاون ہیں۔
Tags: istakhara, dua, islami mashwara, mufti tariq masood, MTM Marriage Bureau, nikkah, islami rehnumai
“مزید اسلامی رہنمائی کے لیے وزٹ کریں: AskMuftiTariqMasood.com، نکاح اور رشتہ جاتی خدمات کے لیے وزٹ کریں: MTM Marriage Bureau.”
Read More on askmuftitariqmasood.com
