Mufti tariq masood website logo officially
nokri mein haram amdan ho to

Nokri Mein Haram Amdan Ho To? | Mufti Tariq Masood

askmufti
-
November 7, 2025

Nokri Mein Haram Amdan Ho To? — اسلامی نقطہ نظر

اکثر لوگ پوچھتے ہیں: “Nokri mein haram amdan ho to kya karein?”
یہ سوال صرف روزگار کا نہیں، ایمان اور آخرت کا بھی ہے۔ بہت سے لوگ ایسے اداروں یا کاموں میں مصروف ہیں جہاں کچھ حصہ حلال اور کچھ حصہ حرام لگتا ہے۔ اب یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے کس طرح فیصلہ کیا جائے کہ کون سا روزگار جائز ہے اور کون سا ناجائز؟

حلال کمائی — ایمان کا تقاضا

اسلام میں حلال کمائی کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

طیب کمائی حاصل کرنا فرض کے بعد فرض ہے۔
یعنی جس طرح نماز فرض ہے، اسی طرح حلال روزی کی تلاش بھی فرض ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

یَا أَیُّهَا النَّاسُ کُلُوا مِمَّا فِی الْأَرْضِ حَلَالًا طَیِّبًا
(سورۃ البقرہ: 168)
“اے لوگو! زمین میں جو کچھ حلال اور پاکیزہ ہے، اسے کھاؤ۔”

یہ آیت بتاتی ہے کہ کھانے، کمانے اور خرچ کرنے میں پاکیزگی شرط ہے۔

حرام آمدن — کب اور کیسے؟

مفتی طارق مسعود صاحب کے مطابق (حوالہ: AskMuftiTariqMasood.com)، حرام آمدن کی چند واضح صورتیں ہیں:

  1. براہِ راست حرام کام:
    جیسے سودی ادارے، شراب، جوا، غیر شرعی سرمایہ کاری، یا فحاشی کے کاروبار میں کام کرنا۔
    یہاں تنخواہ کا پورا حصہ حرام شمار ہوتا ہے کیونکہ بنیاد ہی غلط ہے۔

  2. مخلوط نظام میں حصہ:
    بعض جگہ کام جائز ہوتا ہے، مگر آمدن کا کچھ حصہ حرام ذرائع سے آتا ہے۔ مثلاً بینک میں کام کرنا جہاں سودی نظام چل رہا ہو، یا کمپنی کا کاروبار بعض ناجائز ذرائع پر بھی مشتمل ہو۔
    ایسی صورت میں ملازم کی حیثیت اور کام کی نوعیت دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اگر وہ سودی کام میں براہِ راست شریک نہیں، تو اس کی تنخواہ مکمل حرام نہیں، مگر مکروہ اور مشتبہ ضرور ہے۔

  3. غلط نیت یا بددیانتی:
    اگر کام جائز ہے لیکن ملازم دھوکہ، رشوت، یا فراڈ کے ذریعے کمائی کرے، تو وہ کمائی بھی حرام ہو جاتی ہے۔

ملازمت چھوڑنے یا جاری رکھنے کا معیار

اسلام میں فیصلہ نیت، نوعیت اور انجام پر ہوتا ہے۔
اگر کام کھلے عام حرام ہو (جیسے شراب کی فیکٹری یا سودی ادارہ)، تو فوراً چھوڑ دینا لازم ہے۔
لیکن اگر آمدن مشتبہ ہے (یعنی واضح حرام نہیں، مگر دل میں کھٹک ہے)، تو دو راستے ہیں:

  1. اللہ سے مدد مانگ کر متبادل تلاش کرنا۔
    نبی ﷺ نے فرمایا:

    “جو شخص کسی چیز کو اللہ کے لیے چھوڑتا ہے، اللہ اسے اس سے بہتر دیتا ہے۔”
    یہ یقین رکھنا چاہیے کہ حلال رزق میں برکت ہے، حرام میں لعنت۔

  2. جب تک مجبوری ہو، توبہ و دعا کے ساتھ گزارہ۔
    اگر فوری متبادل نہ ملے، تو حرام حصہ کے برابر صدقہ کیا جائے، اور نیت ہو کہ جیسے ہی ممکن ہو، یہ کام چھوڑ دیا جائے۔

عملی رہنمائی — مفتی طارق مسعود کے مشورے

AskMuftiTariqMasood.com پر ایک فتویٰ میں مفتی صاحب لکھتے ہیں:

“اگر ملازمت میں براہِ راست حرام عنصر شامل ہے، تو فوراً چھوڑ دو۔
لیکن اگر کام جائز ہے اور ادارہ کا نظام جزوی طور پر ناجائز ہے، تو نیت صاف رکھو، توبہ کرو، اور بہتر موقع تلاش کرتے رہو۔”

یعنی شریعت کا حکم سختی کے ساتھ عدل پر مبنی ہے۔ اللہ انسان کی نیت اور کوشش کو دیکھتا ہے، نہ صرف حالات کو۔


حصہ دوئم: MTM Marriage Bureau — دیانت دار اور اسلامی بنیادوں پر رشتے

ایمان دار کمائی اور پاکیزہ نیت صرف روزگار میں نہیں، بلکہ رشتوں اور نکاح میں بھی اہم ہے۔
اسی اصول پر مفتی طارق مسعود صاحب نے MTM Marriage Bureau قائم کیا، جو ایسے نوجوانوں کو جوڑنے میں مدد دیتا ہے جو حلال طرزِ زندگی اور ایمان دار کمائی کو ترجیح دیتے ہیں۔

MTM Marriage Bureau کا مقصد

  • نکاح کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق عام کرنا۔

  • ایسے خاندانوں کو جوڑنا جو حرام کمائی اور غیر شرعی طریقوں سے بچنا چاہتے ہیں۔

  • شادی کے عمل کو دیانت، ایمان اور حیا کی بنیاد پر استوار کرنا۔

MTM کی خصوصیات

  1. شرعی رہنمائی: ہر رشتے سے پہلے اسلامی مشاورت۔

  2. دیانت پر مبنی سلیکشن: امیدواروں کے عقائد اور طرزِ زندگی کی جانچ پڑتال۔

  3. خاندانی ہم آہنگی: شادی کے بعد مصالحت اور فیملی مشاورت کی سہولت۔

  4. پردہ اور عزت: خواتین کی معلومات مکمل رازداری کے ساتھ رکھی جاتی ہیں۔

  5. آن لائن سہولت: دنیا بھر کے پاکستانی اور مسلمان خاندانوں کے لیے۔

کیوں اہم ہے؟

جب روزی حلال ہو، نیت صاف ہو، اور گھر ایمان کی بنیاد پر قائم ہو — تو نکاح صرف تعلق نہیں، بلکہ سکون اور برکت کا ذریعہ بنتا ہے۔ MTM اسی سوچ کے ساتھ مسلمانوں کو جوڑنے کی خدمت انجام دے رہا ہے تاکہ دنیا اور آخرت دونوں سنوریں۔


خلاصۂ کلام

اگر nokri mein haram amdan ho to, سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ حرام کا پہلو کہاں سے آ رہا ہے۔

  • اگر براہِ راست حرام کام ہے تو فوراً چھوڑنا واجب ہے۔

  • اگر آمدن مشتبہ ہے تو نیت درست رکھیں، توبہ کریں، اور حلال متبادل ڈھونڈنے کی کوشش جاری رکھیں۔
    اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کے لیے دروازے کھول دیتا ہے جو اس کے لیے قربانی دیتے ہیں۔

Tags: haram amdan, halal kamai, mufti tariq masood, islamic job guide, taqatwar niyat, MTM Marriage Bureau, halal rozgar

“مزید اسلامی رہنمائی کے لیے وزٹ کریں: AskMuftiTariqMasood.com، نکاح اور رشتہ جاتی خدمات کے لیے وزٹ کریں: MTM Marriage Bureau.”

Latest Articles

Consult Mufti Tariq Masood for Islamic guidance on any issue. Contact now for expert advice with secure, private solutions.
Location
  • Jamia Masjid-o-Madras Alfalahiya, Sector#10, North Karachi, Karachi - Pakistan
  • 9118 Basin Ridge ln, Richmond, TX 77407 - United States
Term Of Use
NO © Copyright - Share As Much As You Can ! JAZAKALLAH
Privacy Policy
Your Zakat = Someone’s Food for a Month
Assalamu Alaikum,
Ek zakat ka rupaya ek maa ko 30 din ka ration de sakta hai.
MTM Zakat Fund – 100% transparent, verified cases.
“Sadaqah wipes out sin like water extinguishes fire.” (Tirmidhi)
  • Ek maa apne bacchon ke liye roti ka intezar kar rahi hai.
  • Ek mareez dawai ke liye dua maang raha hai...
    Aap ki zakat uski sehat wapas la sakti hai.
  • Ek family ghar khali karne wali hai...
    Aap ki zakat unka chhath bacha sakti hai.
Your Zakat For
Someone’s Medicine
Your Zakat For
Someone’s Food for a Month
Your Zakat For
Someone’s Education
Your Zakat For
Someone’s Rent

Nikah is Half Your Deen – Let’s Complete It Together.

Assalamu Alaikum,
I’ve seen thousands of lives change with one halal rishta.
No games. No fake promises. Just sincere matches, verified families, and barakah from day one.
👉 30 seconds to create your profile
👉 First match shown FREE
👉 100% Shariah-compliant process
The Prophet ﷺ said: “Whoever Allah provides with a righteous wife, Allah has assisted him in half his deen.” (Tirmidhi)
Let’s make that half easy for you.