
یہ سوال صدیوں پرانا ہے اور آج بھی ہر دور میں مسلمانوں کے ذہنوں میں گونجتا ہے: “Taaveez pehnana shirk hai?”
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تاویذ پہننا شرک ہے، تو کچھ اسے دعا اور حفاظت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تو آخر حقیقت کیا ہے؟
اسلام میں عقیدۂ توحید کی بنیاد یہ ہے کہ نفع و نقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی چیز، کوئی علامت یا کاغذ ہمیں خود سے فائدہ یا نقصان نہیں دے سکتا جب تک اللہ نہ چاہے۔ یہی بنیاد ہمیں تعویذ کے معاملے میں بھی رہنمائی دیتی ہے۔
اسلام سے پہلے عرب لوگ مختلف قسم کے دھاگے، کنکریاں، یا لکھے ہوئے کاغذ پہنتے تھے جنہیں وہ “محفوظ رہنے” کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے توہمات کی سختی سے ممانعت فرمائی۔ حدیث میں آتا ہے:
“من تعلق تمیمة فقد أشرك”
(جس نے تعویذ لٹکایا، اس نے شرک کیا) — [مسند احمد]
یہ حدیث بتاتی ہے کہ اگر کوئی شخص اس یقین سے تاویذ پہنتا ہے کہ یہ خود اسے بچا لے گا یا نفع پہنچائے گا، تو وہ شرکِ اکبر میں داخل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور سے مدد کی امید باندھ رہا ہے۔
اسلامی فقہاء اور مفتیانِ کرام، جیسے کہ مفتی طارق مسعود صاحب نے AskMuftiTariqMasood.com پر تفصیلی وضاحت کی ہے کہ تاویذ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
وہ تاویذ جن میں غیراللہ کے نام، شیطانی یا عجمی کلمات ہوں۔
ایسے کلمات جو سمجھ میں نہ آئیں یا جن میں شرک کا احتمال ہو۔
یا وہ تاویذ جو کسی جن، ستارے یا غیر مرئی طاقت سے مدد مانگنے پر مبنی ہوں۔
یہ سب حرام اور شرک کے درجے میں آتے ہیں۔ ایسے تعویذ سے فوراً توبہ ضروری ہے۔
وہ تاویذ جن میں قرآنی آیات، اسمائے حسنیٰ، یا مسنون دعائیں لکھی ہوں۔
اور پڑھنے یا پہنے والے کا یقین صرف اللہ کی حفاظت پر ہو۔
تاویذ صرف ذریعۂ دعا ہو، وسیلۂ عبادت نہیں۔
ایسا تعویذ فقہی طور پر جائز قرار دیا گیا ہے، اگر اس میں شرک کا کوئی پہلو نہ ہو۔
مفتی طارق مسعود صاحب کے مطابق، “تعویذ کا جواز نیت اور عقیدے پر منحصر ہے۔ اگر دل میں یقین اللہ پر ہے اور تعویذ کو صرف ذریعہ سمجھا جائے تو یہ شرک نہیں، مگر اگر یقین تعویذ پر منتقل ہو جائے تو یہ خطرناک راستہ ہے۔”
(حوالہ: AskMuftiTariqMasood.com)
یعنی اصل معاملہ دل کی نیت ہے، نہ کہ صرف کاغذ کا۔
قرآن و سنت میں حفاظت کے لیے بے شمار دعائیں موجود ہیں — جیسے:
آیت الکرسی
سورہ الاخلاص، الفلق، الناس
اور نبی ﷺ کے بتائے گئے اذکار
یہ تمام دعائیں حفاظت کا حقیقی ذریعہ ہیں، جو ہر وقت اور ہر جگہ پڑھی جا سکتی ہیں۔
اگر کوئی شخص ان دعاؤں کو پڑھنے میں سستی کرتا ہے اور تعویذ پہنے پر اکتفا کرتا ہے، تو وہ خود اپنی روحانی طاقت کو کمزور کر رہا ہے۔
اسلامی معاشرہ صرف عبادتوں سے نہیں بلکہ صحیح عقیدہ اور مضبوط خاندانوں سے بنتا ہے۔ یہی سوچ لے کر مفتی طارق مسعود صاحب نے MTM Marriage Bureau قائم کیا — تاکہ نکاح، رشتہ، اور خاندانی معاملات میں شرعی اصولوں کے مطابق رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
نکاح کو محض دنیاوی معاہدہ نہیں بلکہ عبادت کے طور پر دیکھنا۔
ہر رشتے کو ایمان، کردار اور دیانت کی بنیاد پر استوار کرنا۔
میاں بیوی کے درمیان اعتماد اور احترام پیدا کرنے کے لیے مشاورت فراہم کرنا۔
شرعی مشاورت: شادی سے پہلے یا بعد میں اگر کوئی مسئلہ ہو تو دینی رہنمائی کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔
ایمان دار ہم آہنگی: جوڑوں کو ایسا ماحول فراہم کیا جاتا ہے جہاں دونوں ایک ہی اسلامی نظریے کے تحت جئیں۔
فیملی کونسلنگ: گھریلو جھگڑوں میں مفتی صاحب کی ٹیم مصالحت کے ذریعے صلح کرواتی ہے۔
رازداری اور عزت: خواتین کے پردے اور احترام کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔
وہ نوجوان جو دینی بنیاد پر نکاح چاہتے ہیں۔
وہ والدین جو اپنی اولاد کے لیے پرہیزگار رشتہ ڈھونڈ رہے ہیں۔
وہ جوڑے جو رشتے میں پیدا ہونے والے تنازعات کا شرعی حل چاہتے ہیں۔
MTM Marriage Bureau میں نکاح کو اللہ کی رضا کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ صرف سماجی ضرورت۔ یہاں تعلقات کو شریعت کے اصولوں کے مطابق مضبوط کیا جاتا ہے تاکہ گھر امن و محبت کا مرکز بنے۔
“Taaveez pehnana shirk hai?” کا جواب نیت اور یقین پر منحصر ہے۔ اگر تاویذ میں شرکیہ کلمات ہوں یا اس پر یقین رکھا جائے کہ وہ خود حفاظت کرے گا، تو یہ شرک ہے۔ لیکن اگر تاویذ صرف قرآنی آیات پر مشتمل ہو اور دل کا یقین اللہ پر ہو، تو اس کی اجازت ہے۔
سب سے بہتر راستہ یہ ہے کہ قرآنی اذکار اور مسنون دعائیں اپنا معمول بنایا جائے، کیونکہ یہی وہ حفاظت ہے جو نبی ﷺ نے سکھائی۔
Tags: taweez, shirk, aqeeda e toheed, islami rahnumai, mufti tariq masood, MTM Marriage Bureau, taweez ka hukum
“مزید اسلامی رہنمائی کے لیے وزٹ کریں: AskMuftiTariqMasood.com, نکاح اور رشتہ جاتی خدمات کے لیے وزٹ کریں: MTM Marriage Bureau.”
