
اسلام عورت کو اللہ کی امانت قرار دیتا ہے۔ قرآن پاک کی سورہ النور (آیت 31) میں ارشاد ہے: “اور مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں… اور اپنی زینت کو چھپائیں، سوائے اس کے جو ظاہر ہو۔”
یہ آیت بتاتی ہے کہ خوبصورتی اللہ کی نعمت ہے، لیکن اسے مصنوعی طریقوں سے تبدیل کرنا گناہ کا باعث بن سکتا ہے۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں حضرت اسماء بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “عورت اپنے شوہر کے لیے سج سنور کر سکتی ہے۔” لیکن یہ سج سنور قدرتی ہونا چاہیے۔
مفتی طارق مسعود صاحب اپنے ایک بیان میں فرماتے ہیں: “آج کل میڈیا اور مغربی ثقافت نے عورتوں کو یہ باور کرایا ہے کہ خوبصورتی صرف پارلر سے آتی ہے۔ لیکن اسلام کہتا ہے کہ اصل خوبصورتی دل کی پاکیزگی اور تقویٰ میں ہے۔”
عورت کا بھنویں اور اپر لپس بنوانا اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے کہ کیا یہ عمل اللہ کی تخلیق کو بدلنے کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ آئیے اسے تفصیل سے سمجھتے ہیں۔
بھنویں کی تھریڈنگ ایک مقبول رجحان ہے، لیکن کیا یہ اسلام میں جائز ہے؟ صحیح بخاری اور مسلم کی ایک مشہور حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “اللہ نے ان عورتوں پر لعنت کی جو اپنی بھنویں نوچتی ہیں، اور وہ جو نوچنے والی ہیں، اور وہ جو اپنے دانتوں کو رگڑتی ہیں تاکہ خوبصورت لگیں اور اللہ کی تخلیق بدلیں۔”
اس حدیث میں لفظ “نامصت” بھنویں کے بال نوچنے کو ظاہر کرتا ہے۔ علمائے کرام، جیسے امام نووی، نے اسے حرام قرار دیا کیونکہ یہ اللہ کی بنائی شکل کو تبدیل کرتا ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنے یوٹیوب بیان (ملینز ویوز والی ویڈیو: “مسائل کا حل”) میں فرماتے ہیں: “بھنویں کی تھریڈنگ یا شکل بدلنا حرام ہے، کیونکہ یہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی ہے۔ اگر اضافی بال ہیں جو بھنویں کی قدرتی شکل کو خراب کر رہے ہیں، تو انہیں ہلکا سا تراشنا جائز ہو سکتا ہے، لیکن آرک بنانا یا پتلا کرنا منع ہے۔”
یہ نقطہ اہم ہے کہ بھنویں کی تھریڈنگ مکمل طور پر حرام نہیں، بلکہ اگر آپ قدرتی شکل کو برقرار رکھتے ہوئے صرف غیر ضروری بال ہٹائیں، تو یہ جائز ہو سکتا ہے۔ لیکن زیادہ تر پارلرز میں شکل بدل دی جاتی ہے، جو شرعاً درست نہیں۔
اب بات کرتے ہیں اپر لپس ویکسنگ کی۔ بہت سی خواتین کے لیے اپر لپس پر بال پریشانی کا باعث ہوتے ہیں۔ کیا اس کا حکم بھنویں جیسا ہے؟ نہیں!
صحیح مسلم کی ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فطرہ کے اعمال میں مونچھوں کو تراشنا اور غیر ضروری بال ہٹانا شامل کیا ہے۔ اپر لپس کے بال “فطرہ” کے زمرے میں نہیں آتے، بلکہ یہ چہرے کے غیر مطلوبہ بال ہیں، جنہیں ہٹانا جائز ہے۔
مفتی طارق مسعود صاحب اپنے ایک بیان (ایکس پوسٹ @MuftiTariqM سے حوالہ) میں فرماتے ہیں: “اپر لپس کے بال ہٹانا جائز ہے، کیونکہ یہ صاف ستھرائی کا حصہ ہے۔ ویکسنگ یا تھریڈنگ سے ہٹانا درست ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ نہ کریں۔ قدرتی رہنا افضل ہے۔”
یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔ عورت کا بھنویں اور اپر لپس بنوانا دو الگ مسائل ہیں۔ بھنویں کی شکل بدلنا حرام ہے، جبکہ اپر لپس صاف کرنا جائز ہے۔
ایک عام سوال ہے: “میرا شوہر چاہتا ہے کہ میں بھنویں بنواؤں، کیا کروں؟” مفتی طارق مسعود صاحب اپنے پوڈکاسٹ “آسک مفتی” میں اس کا جواب دیتے ہیں: “شوہر کی محبت اہم ہے، لیکن دین سے بڑھ کر نہیں۔ اگر وہ بھنویں بنوانے کو کہے، تو اسے حدیث سے سمجھائیں کہ یہ حرام ہے۔ قدرتی خوبصورتی سے بھی وہ خوش ہو جائے گا۔”
سورہ النساء (آیت 34) میں شوہر کو قوام بتایا گیا ہے، لیکن اس کی اطاعت حرام کاموں میں نہیں۔ آپ اپنے شوہر سے پیار سے بات کریں، انہیں حدیث اور فتوٰی بتائیں۔ مفتی صاحب کا مشورہ ہے کہ عورت اپنی قدرتی خوبصورتی سے شوہر کو متاثر کرے، جیسے کہ اچھا لباس، خوشبو، اور پاکیزہ رویہ۔
مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنی ویڈیو “عورت کا بھنویں اور اپر لپس بنوانا” (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official) میں اسے واضح کیا:
ان کا فتوٰی قرآن اور احادیث پر مبنی ہے۔ وہ جدید دور کے چیلنجز، جیسے سوشل میڈیا کے اثرات، کو بھی اجاگر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں: “عورت کی اصل خوبصورتی اس کا ایمان اور حیاء ہے۔”
اگر عورت کا بھنویں اور اپر لپس بنوانا مکمل طور پر جائز نہیں، تو خوبصورتی کیسے برقرار رکھی جائے؟ یہاں چند حلال متبادل ہیں:
یہ طریقے نہ صرف حلال ہیں بلکہ آپ کے شوہر کو بھی متاثر کریں گے۔
انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر بہت سی خواتین بھنویں کی تھریڈنگ کو پروموٹ کرتی ہیں، جو نوجوان لڑکیوں کے لیے فتنہ بن سکتا ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب فرماتے ہیں: “مسلم خواتین کو چاہیے کہ وہ حلال خوبصورتی کو فروغ دیں اور دوسروں کو دین کی طرف راغب کریں۔”
ایک سروے (پیو ریسرچ، 2025) کے مطابق، 65% مسلم خواتین بیوٹی ٹرینڈز فالو کرتی ہیں، لیکن 50% کو دینی سوالات پریشان کرتے ہیں۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو شرعی رہنمائی فراہم کریں۔
سوال: کیا بھنویں کی ہلکی تراش جائز ہے؟ جواب: اگر اضافی بال ہٹائیں جو قدرتی شکل خراب کر رہے ہوں، تو جائز ہے، لیکن شکل بدلنا حرام ہے۔
سوال: اپر لپس ویکسنگ کیوں جائز ہے؟ جواب: یہ صاف ستھرائی کا حصہ ہے اور فطرہ کے زمرے میں نہیں آتا، جیسا کہ حدیث میں ہے۔
سوال: اگر شوہر اصرار کرے تو کیا کروں؟ جواب: اسے پیار سے سمجھائیں اور حدیث بتائیں۔ قدرتی خوبصورتی سے بھی وہ خوش ہو سکتا ہے۔
عورت کا بھنویں اور اپر لپس بنوانا ایک حساس دینی مسئلہ ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ بھنویں کی تھریڈنگ حرام ہے، جبکہ اپر لپس ویکسنگ جائز ہے۔ شوہر کی خواہش کو عزت دیں، لیکن گناہ سے بچیں۔ قدرتی خوبصورتی کے حلال طریقے اپنائیں اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے۔
