
تحجد کی نماز رات کی نفلی نماز ہے جو اللہ کی خاص رحمت کو دعوت دیتی ہے۔ قرآن پاک میں سورہ الإسراء (آیت 79) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “رات کے کچھ حصے میں اسے (نماز) سے تہجد کرو، یہ اضافی ہے؛ تاکہ تیرا رب تجھے محمود مقام پر پہنچا دے۔”
یہ آیت رات کی نماز کی فضیلت کو واضح کرتی ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “رات کے آخری تہائی حصے میں اللہ کی رحمت آسمانِ دنیا پر نازل ہوتی ہے اور فرماتا ہے: ‘کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں دوں؟'”
مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “تحجد کی فضیلت”) میں فرماتے ہیں: “تحجد کی نماز اللہ سے قربت کا ذریعہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب بندے کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اسے رات کے آخری حصے میں پڑھنا افضل ہے۔”
تحجد کا وقت کب سے کب تک ہے؟ اس کا جواب جاننے کے لیے ہمیں رات کی تقسیم کو سمجھنا ہوگا۔
تحجد کی نماز کا وقت رات کی شروعات سے فجر کی اذان تک ہے، لیکن اس کی فضیلت مختلف حصوں میں مختلف ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنے ایک بیان (یوٹیوب ویڈیو: “Tahajjud ka Waqt kab se kab tak hai?”) میں فرماتے ہیں: “تحجد کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے فجر کی اذان سے پہلے تک ہے۔ لیکن بہترین وقت رات کا آخری تہائی حصہ ہے، جب اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔”
رات کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) رات کے آخری حصے میں اٹھتے اور نماز پڑھتے۔ مفتی صاحب کہتے ہیں: “اگر آپ رات بھر جاگ کر تحجد پڑھیں، تو یہ قیام اللیل کہلائے گا، جو بہت فضیلت والا ہے۔ لیکن عام لوگوں کے لیے آخری تہائی حصہ بہتر ہے۔”
حنفی مسلک میں تحجد کا وقت عشاء کے بعد سے سحر تک ہے، لیکن سنت یہ ہے کہ پہلے سونے کے بعد اٹھ کر پڑھی جائے۔ مفتی طارق مسعود صاحب فرماتے ہیں: “تحجد کا لفظ ‘ہجد’ سے ہے، یعنی نیند سے بیدار ہونا۔ اس لیے پہلے سونے اور پھر اٹھ کر پڑھنا سنت ہے، لیکن اگر سونے کا وقت نہ ہو تو رات کے درمیانی حصے میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔”
تحجد کا وقت کب سے کب تک ہے جاننے کے بعد، اسے ادا کرنے کا طریقہ بھی اہم ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں:
مفتی صاحب اپنے ایک بیان میں کہتے ہیں: “تحجد میں سجدے طویل کریں اور اللہ سے اپنے مسائل کی دعا مانگیں۔ یہ نماز آپ کی زندگی بدل سکتی ہے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنی ویڈیو “تحجد کی نماز” (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official) میں اس موضوع پر واضح فتوٰی دیا:
وہ اپنے بیانات میں فرماتے ہیں: “تحجد کی نماز اللہ کی طرف سے خاص دعوت ہے۔ اس وقت بندے کی آواز سب سے زیادہ سنائی دیتی ہے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں، یہاں چند عملی نکات ہیں:
سوال: تحجد کا وقت کب سے شروع ہوتا ہے؟ جواب: عشاء کی نماز کے بعد سے فجر کی اذان سے پہلے تک۔
سوال: کیا رات کے شروع میں تحجد پڑھ سکتے ہیں؟ جواب: ہاں، جائز ہے، لیکن آخری تہائی حصہ افضل ہے۔
سوال: اگر فجر 5 بجے ہے تو تحجد کب پڑھیں؟ جواب: 3 بجے سے 5 بجے تک، خاص طور پر آخری حصے میں۔
آج کل مصروف زندگی کی وجہ سے لوگ رات کی نمازوں سے غافل ہو جاتے ہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “جدید دور میں تحجد کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے، کیونکہ یہ دل کی سکون دیتی ہے۔ سوشل میڈیا اور کام کی مصروفیات سے بچو اور اللہ کو وقت دو۔”
ایک سروے (Islamic Practices Report, 2025) کے مطابق، 50% مسلم نوجوان رات کی نمازوں کے بارے میں الجھن کا شکار ہیں۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو تحجد کا وقت کب سے کب تک ہے جیسے سوالات کے درست جوابات دیں۔
تحجد کا وقت کب سے کب تک ہے؟ مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ یہ عشاء کے بعد سے فجر سے پہلے تک ہے، لیکن بہترین وقت رات کا آخری تہائی حصہ ہے۔ اس نماز کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اللہ سے قربت حاصل کریں، اور اپنے مسائل کی دعا مانگیں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے۔ کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
