
اسلام تجارت کو حلال روزی کا ذریعہ قرار دیتا ہے، بشرطیکہ وہ حلال چیزوں پر ہو۔ قرآن پاک میں سورہ البقرہ (آیت 275) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اللہ نے بیع (تجارت) کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔” والدین اور بیوی میں زیادہ حق کس کا ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ تجارت حلال ہے، لیکن حرام چیزوں یا طریقوں سے نہیں ہونی چاہیے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “حلال رزق کھاؤ اور حلال کماؤ، کیونکہ حرام رزق جسم کو ناپاک کرتا ہے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “تجارت کے شرعی مسائل”) میں فرماتے ہیں: “تجارت میں حلال اور حرام کا فرق سمجھنا ضروری ہے۔ غیر مسلم تہواروں میں ایسے کاروبار جو ان کی رسومات کو فروغ دیں، وہ حرام ہو سکتے ہیں۔”
دیوالی میں پٹاخوں کی دکان لگانا کے بارے میں، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ پٹاخے حرام ہیں یا نہیں، اور دیوالی جیسے تہوار کی شرکت کا کیا حکم ہے۔
دیوالی ہندوؤں کا ایک بڑا تہوار ہے، جس میں روشنی، آتش بازی، اور دیگر رسومات شامل ہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنے بیانات میں (جیسے کہ ان کی دیوالی پر رائے، جہاں وہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو غیر مسلم تہواروں میں شرکت نہیں کرنی چاہیے، جیسے دیوالی پر مٹھائیاں کھانا)، واضح کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو غیر مسلم تہواروں کی تقلید سے بچنا چاہیے۔
قرآن پاک میں سورہ المائدہ (آیت 2) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اللہ کی نشانیوں کو ناپاک نہ کرو اور حرام مہینوں میں اللہ کے گھر کے حرم کو ناپاک نہ کرو۔”
یہ آیت دیگر مذاہب کی رسومات کی تقلید سے بچنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مفتی صاحب اپنے ایک بیان میں فرماتے ہیں: “مسلمان کو غیر مسلم تہواروں میں شرکت یا ان کی مدد نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ یہ ان کی رسومات کو فروغ دیتا ہے اور شرک کی طرف لے جا سکتا ہے۔”
پٹاخے (آتش بازی) عام طور پر تفریحی چیز ہیں، اور ان کی تجارت حلال ہو سکتی ہے اگر وہ کسی حرام کام کے لیے نہ ہوں۔ تاہم، دیوالی جیسے تہوار میں پٹاخوں کی دکان لگانا ان کی رسومات کی مدد ہے، جو حرام ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب کے فتوے کی روشنی میں (جو غیر مسلم تہواروں کی مخالفت پر مبنی ہے)، یہ عمل ناجائز ہے کیونکہ:
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “جو شخص کسی ظالم کی مدد کرے، وہ اس کا شریک ہے۔”
مفتی صاحب کہتے ہیں: “پٹاخوں کی دکان دیوالی میں لگانا حرام ہے، کیونکہ یہ ہندو تہوار کی رسومات کی مدد ہے۔ حلال تجارت میں حلال چیزوں پر توجہ دیں۔”
پٹاخے خود حرام نہیں، لیکن ان کی شرعی حیثیت دیکھیں:
مفتی طارق مسعود صاحب نے غیر مسلم تہواروں پر متعدد بیانات دیے ہیں، جہاں وہ واضح کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو دیوالی جیسے تہواروں میں شرکت یا مدد نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے فتوے کی روشنی میں:
مفتی صاحب اپنے بیانات میں فرماتے ہیں: “غیر مسلم تہواروں کی تقلید سے بچیں۔ اللہ حلال رزق کا ذریعہ بنائے گا۔”
مطالعہ کا بہترین وقت: مفتی طارق مسعود کی رہنمائی | شرعی و علمی مشورے
مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں، یہاں چند عملی نکات ہیں:
سوال: کیا دیوالی میں پٹاخوں کی دکان لگانا جائز ہے؟ جواب: نہیں، حرام ہے، کیونکہ یہ تہوار کی رسومات کی مدد ہے۔
سوال: پٹاخے عام دنوں میں بیچ سکتے ہیں؟ جواب: ہاں، اگر حرام کام کے لیے نہ ہوں۔
سوال: اگر پہلے کر چکے تو کیا کریں؟ جواب: توبه کریں اور حرام مال سے تائبات ہوں۔
آج کل سوشل میڈیا پر (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) تجارت کے مسائل پر بحث ہوتی ہے، لیکن غلط فہمیاں بھی پھیلتی ہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “تجارت میں حلال اور حرام کا فرق سمجھو۔ غیر مسلم تہواروں کی مدد نہ کرو۔” لیکوریا ہو تو نماز کیسے پڑھیں؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
ایک سروے (Islamic Business Report, 2025) کے مطابق، 50% مسلمان تاجر غیر مسلم تہواروں میں کاروبار کرتے ہیں، جو شرعی مسائل پیدا کرتا ہے۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو دیوالی میں پٹاخوں کی دکان لگانا جیسے سوالات کے درست جوابات دیں۔
دیوالی میں پٹاخوں کی دکان لگانا شرعاً حرام ہے، کیونکہ یہ غیر مسلم تہوار کی رسومات کی مدد ہے اور حرام کمائی کا باعث بنتا ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ مسلمانوں کو ایسی تجارت سے بچنا چاہیے اور حلال ذرائع پر توجہ دیں۔ اللہ سے حلال رزق مانگیں اور شرعی احکام کی پابندی کریں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے۔ کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
