
ہمارے معاشرے میں ایک عام روایت ہے کہ رات میں جھاڑو لگانا رزق کی کمی یا بدشگونی کا باعث بنتا ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنے ایک بیان (ایکس پوسٹ @MuftiTariqM) میں اس کی وضاحت کرتے ہیں: “رات میں جھاڑو لگانے کی ممانعت کے بارے میں کوئی صریح قرآنی آیت یا حدیث موجود نہیں۔ یہ ایک ثقافتی توہم ہے جو ہمارے معاشرے میں رائج ہے۔”
دوسری طرف، رات میں ناخن کاٹنے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ یہ بدشگونی یا نقصان کا باعث بنتا ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو “روزمرہ کے مسائل” میں اس کی وضاحت کرتے ہیں: “ناخن کاٹنے کی رات میں ممانعت کے بارے میں کوئی شرعی دلیل نہیں۔ یہ ایک ثقافتی روایت ہے، نہ کہ دینی حکم۔”
مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنی ویڈیو “توہمات اور شرعی احکام” (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official) میں اس موضوع پر واضح فتوٰی دیا:
وہ اپنے ایکس ہینڈل (@MuftiTariqM) پر لکھتے ہیں: “رات میں جھاڑو لگانا یا ناخن کاٹنا جائز ہے۔ توہمات سے بچو اور اللہ پر توکل کرو۔”
اسلام ایک مکمل دین ہے جو توہمات اور غیر شرعی عقائد کو مسترد کرتا ہے۔ قرآن پاک میں سورہ البقرہ (آیت 102) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اور وہ اس چیز کی پیروی کرتے ہیں جو شیاطین نے سلیمان کی سلطنت پر پھیلائی… اور لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔”
یہ آیت توہمات اور جادو سے بچنے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “جو شخص فال نکالے یا توہم پر عمل کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔”
مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “توہمات سے بچاؤ”) میں فرماتے ہیں: “اسلام میں کسی عمل کو منع کرنے کے لیے قرآن یا حدیث سے دلیل ہونی چاہیے۔ اگر کوئی چیز توہم پر مبنی ہو، تو اسے ترک کر دینا چاہیے۔”
رات میں جھاڑو لگانا اور ناخن کاٹنا کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ بدشگونی یا نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن کیا یہ بات شرعی ہے؟ آئیے اسے تفصیل سے دیکھتے ہیں۔
مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں، یہاں چند عملی نکات ہیں:
سوال: کیا رات میں جھاڑو لگانا شرعاً منع ہے؟ جواب: نہیں، یہ جائز ہے۔ کوئی قرآنی آیت یا حدیث اسے منع نہیں کرتی۔
سوال: رات میں ناخن کاٹنا کیوں منع کہا جاتا ہے؟ جواب: یہ ثقافتی توہم ہے، شرعی طور پر کوئی پابندی نہیں۔
سوال: اگر گھر والے توہمات پر یقین رکھتے ہوں تو کیا کریں؟ جواب: انہیں شرعی احکام بتائیں اور دن میں یہ کام کر لیں تاکہ دل مطمئن رہے۔
آج کل سوشل میڈیا پر (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) توہمات سے متعلق غلط معلومات پھیلتی ہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “توہمات سے بچو اور ہر بات کو قرآن و حدیث سے پرکھو۔ اللہ پر توکل کرو اور غیر شرعی باتوں پر عمل نہ کرو۔”
ایک سروے (Islamic Practices Report, 2025) کے مطابق، 60% مسلم کمیونٹی ثقافتی توہمات کو دینی احکام سمجھتی ہے۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو رات میں جھاڑو لگانا اور ناخن کاٹنا جیسے سوالات کے درست جوابات دیں۔
رات میں جھاڑو لگانا اور ناخن کاٹنا شرعاً جائز ہے، کیونکہ ان کی ممانعت کے بارے میں کوئی قرآنی آیت یا حدیث موجود نہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ یہ اعمال صاف ستھرائی کا حصہ ہیں اور توہمات سے بچنا چاہیے۔ اپنی زندگی کو قرآن و سنت کی روشنی میں ڈھالیں اور اللہ پر توکل کریں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے۔ کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
