
روزہ اسلام کا ایک اہم رکن ہے، جسے قرآن پاک میں سورہ البقرہ (آیت 183) میں بیان کیا گیا ہے: “اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے، جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔” والدین اور بیوی میں زیادہ حق کس کا ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
صحیح بخاری کی ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “روزہ ڈھال ہے، جب تک اسے نہ توڑا جائے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “روزے کے مسائل”) میں فرماتے ہیں: “روزہ اللہ کی عبادت ہے، جو نیت، صبر، اور تقویٰ پر مبنی ہے۔ لیکن کچھ اعمال روزے کو باطل کر دیتے ہیں، جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔”
روزے کی حالت میں مشت زنی کے بارے میں جاننے کے لیے ہمیں روزے کے وہ اعمال دیکھنے ہوں گے جو اسے باطل کرتے ہیں۔
مشت زنی (استمناء بالید) اسلام میں ایک گناہ ہے، چاہے روزے کی حالت ہو یا نہ ہو۔ قرآن پاک میں سورہ المؤمنون (آیت 5-7) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اور جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں یا کنیزوں کے، کیونکہ ان پر کوئی ملامت نہیں، لیکن جو اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرے، وہ حد سے تجاوز کرنے والا ہے۔” کیا تعویز لٹکانا شرک ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مشت زنی جیسے اعمال ناجائز ہیں۔ صحیح بخاری کی حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “سات تباہ کن گناہوں سے بچو، جن میں سے ایک اپنی شرمگاہ کو حرام طریقے سے استعمال کرنا ہے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو “گناہ سے توبہ” میں فرماتے ہیں: “مشت زنی ایک گناہ ہے، کیونکہ یہ غیر شرعی طریقہ ہے۔ روزے کی حالت میں یہ گناہ اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ روزے کی حرمت کو نقصان پہنچاتا ہے۔”
اب اصل سوال کہ اگر روزے کی حالت میں مشت زنی ہو جائے تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو “روزے کے شرعی مسائل” میں اس کی واضح رہنمائی کرتے ہیں: “روزے کی حالت میں مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ اس سے انزال ہوتا ہے، جو روزے کے باطل ہونے کا سبب ہے۔ اس کی قضا لازم ہوگی، لیکن کفارہ نہیں۔”
مفتی صاحب واضح کرتے ہیں کہ مشت زنی سے روزہ ٹوٹنے پر کفارہ (60 روزوں کی قضا یا غریبوں کو کھانا کھلانا) لازم نہیں ہوتا، کیونکہ کفارہ صرف جماع کی صورت میں لازم ہوتا ہے۔ لیکن ایک روزے کی قضا لازمی ہے۔
وہ اپنے ایک ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں لکھتے ہیں: “روزے کی حالت میں مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، قضا کرو اور توبہ مانگو۔ اللہ معاف کرنے والا ہے۔”
مشت زنی ایک گناہ ہے، اور روزے کی حالت میں اس سے روزہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو “گناہ سے بچاؤ” میں مشورہ دیتے ہیں: “اگر غلطی ہو جائے، تو فوراً توبہ کرو۔ اللہ سے معافی مانگو، اور آئندہ اس سے بچنے کی کوشش کرو۔”
مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنی ویڈیو “روزے کے مسائل” اور دیگر بیانات میں اس موضوع پر واضح رہنمائی دی:
سوال: کیا روزے کی حالت میں مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ جواب: ہاں، اگر انزال ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور قضا لازم ہے۔
سوال: کیا کفارہ بھی دینا پڑے گا؟ جواب: نہیں، کفارہ صرف جماع کی صورت میں لازم ہوتا ہے۔
سوال: اگر غلطی ہو جائے تو کیا کریں؟ جواب: توبہ کریں، استغفار مانگیں، اور قضا روزہ رکھیں۔
آج کل سوشل میڈیا پر (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) گناہ اور روزے کے مسائل پر بحث ہوتی ہے، لیکن غلط فہمیاں بھی پھیلتی ہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “رمضان گناہوں سے پاک ہونے کا مہینہ ہے۔ شیطان سے بچو اور اللہ سے توبہ مانگو۔”
ایک سروے (Islamic Practices Report, 2025) کے مطابق، 65% مسلم نوجوان روزے کے احکام سے ناواقف ہیں۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو روزے کی حالت میں مشت زنی سے روزہ ٹوٹنا جیسے سوالات کے درست جوابات دیں۔ کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
روزے کی حالت میں اگر مشت زنی ہو جائے تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ ہاں، اگر انزال ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اس کی قضا لازم ہے، لیکن کفارہ نہیں۔ مشت زنی ایک گناہ ہے، اس لیے فوراً توبہ کریں اور اللہ سے مغفرت مانگیں۔ اپنے روزوں کو پاکیزہ رکھیں اور شیطان کے وسوسوں سے بچیں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے۔
