
اسلام میں طہارت اور روزے دونوں کی عظیم اہمیت ہے۔ قرآن پاک میں سورہ المائدہ (آیت 6) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ… اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرو۔”
اسی طرح سورہ البقرہ (آیت 183) میں روزے کے بارے میں فرمایا: “اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے، جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔”
مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “رمضان کے مسائل”) میں فرماتے ہیں: “روزہ اللہ کی عبادت ہے، اور اس کے لیے نیت اور طہارت دونوں اہم ہیں۔ لیکن سحری اور روزے کے احکام الگ ہیں، جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔”
غسل فرض ہونے کی حالت میں سحری کرنا کے بارے میں جاننے کے لیے ہمیں روزے اور طہارت کے احکام کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔ والدین اور بیوی میں زیادہ حق کس کا ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
غسل فرض ہونے کی حالت (جنابت) تب ہوتی ہے جب کوئی شخص بڑی ناپاکی کی حالت میں ہو، جیسے:
صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جنابت کی حالت میں غسل کرتے اور پھر روزہ رکھتے۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “جنابت کی حالت روزے کو متاثر نہیں کرتی، بشرطیکہ نیت صاف ہو اور سحری فجر سے پہلے کی جائے۔”
اب سوال یہ ہے کہ کیا جنابت کی حالت میں سحری کھائی جا سکتی ہے؟ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو “روزے کے شرعی مسائل” میں اس کی وضاحت کرتے ہیں: “جنابت کی حالت میں سحری کھانا جائز ہے، کیونکہ روزے کی صحت کے لیے غسل شرط نہیں۔ روزہ نیت اور فجر سے غروب تک کھانے پینے سے رکنے پر منحصر ہے۔”
صحیح بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ اور ام سلمہ (رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) بعض اوقات فجر سے پہلے جنابت کی حالت میں ہوتے، پھر غسل کرتے اور روزہ رکھتے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جنابت کی حالت روزے کی نیت یا سحری کو متاثر نہیں کرتی۔
مفتی صاحب اپنے ایک ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں لکھتے ہیں: “جنابت کی حالت میں سحری کھانا جائز ہے۔ بس فجر سے پہلے غسل کر لیں تاکہ نماز بروقت ادا ہو۔”
حنفی مسلک میں روزے کی صحت کے لیے درج ذیل شرائط ہیں:
غسل فرض ہونے کی حالت روزے کی نیت یا سحری پر اثر نہیں ڈالتی۔ تاہم، مفتی طارق مسعود صاحب مشورہ دیتے ہیں: “جنابت کی حالت میں سحری کھانا جائز ہے، لیکن فجر کی نماز کے لیے غسل کرنا ضروری ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ سحری کے فوراً بعد غسل کر لیں۔”
مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں، اگر آپ جنابت کی حالت میں ہیں اور سحری کرنا چاہتے ہیں، تو یہ اقدامات کریں:
مفتی صاحب کہتے ہیں: “سحری کے بعد غسل کرنا آسان ہے۔ بس وقت کا خیال رکھیں تاکہ فجر کی نماز نہ چھوٹے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنی ویڈیو “رمضان کے مسائل” (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official) میں اس موضوع پر واضح فتوٰی دیا:
وہ اپنے ایکس ہینڈل (@MuftiTariqM) پر لکھتے ہیں: “جنابت کی حالت میں سحری کھاؤ، لیکن فجر سے پہلے غسل کرو۔ روزہ اللہ کے لیے ہے، اور وہ نیت دیکھتا ہے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں، یہاں چند عملی نکات ہیں:
سوال: کیا جنابت کی حالت میں سحری کھانا جائز ہے؟ جواب: ہاں، جائز ہے۔ یہ روزے کو متاثر نہیں کرتا۔
سوال: اگر سحری کے بعد غسل نہ کر سکیں تو کیا ہوگا؟ جواب: روزہ درست رہے گا، لیکن فجر کی نماز کے لیے غسل ضروری ہے۔
سوال: کیا سحری سے پہلے غسل کرنا بہتر ہے؟ جواب: بہتر ہے، لیکن اگر وقت نہ ہو تو سحری کے بعد فجر سے پہلے غسل کر لیں۔
آج کل سوشل میڈیا پر (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) رمضان کے مسائل کے بارے میں غلط معلومات پھیلتی ہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “رمضان کے مسائل کے لیے معتبر علماء سے رہنمائی لیں۔ غلط فہمیوں سے بچیں اور قرآن و حدیث پر عمل کریں۔”
ایک سروے (Islamic Practices Report, 2025) کے مطابق، 60% مسلم کمیونٹی رمضان کے شرعی مسائل کے بارے میں الجھن کا شکار ہے۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو غسل فرض ہونے کی حالت میں سحری کرنا جیسے سوالات کے درست جوابات دیں۔ کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
غسل فرض ہونے کی حالت میں سحری کرنا شرعاً جائز ہے، کیونکہ جنابت روزے کی صحت کو متاثر نہیں کرتی۔ مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ سحری کے بعد فجر سے پہلے غسل کر لینا چاہیے تاکہ نماز بروقت ادا ہو۔ اپنے روزوں کو نیت اور تقویٰ کے ساتھ مکمل کریں، اور اللہ سے مغفرت مانگیں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے۔
