
لیکوریا ایک طبی حالت ہے جس میں خواتین کے نجی اعضاء سے سفید یا ہلکا پیلا مادہ خارج ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر ہارمونل تبدیلیوں، انفیکشن، یا دیگر طبی وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے۔ شرعی طور پر، اسے سمجھنے کے لیے ہمیں طہارت کے احکام کو دیکھنا ہوگا۔
مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “عورتوں کے مسائل”) میں فرماتے ہیں: “لیکوریا کو شرعی طور پر استحاضہ (غیر معمولی خون یا رطوبت) کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے، نہ کہ حیض یا نفاس۔ اس لیے اس کے احکام مختلف ہیں۔”
اسلام میں طہارت کے تین درجے ہیں:
لیکوریا کو عام طور پر استحاضہ کے زمرے میں رکھا جاتا ہے، اور اس کے احکام کو سمجھنا ضروری ہے۔
لیکوریا ہو تو نماز کیسے پڑھیں؟ اس کا جواب دینے کے لیے ہمیں طہارت کے احکام دیکھنے ہوں گے۔ قرآن پاک میں سورہ المائدہ (آیت 6) میں طہارت کی اہمیت بیان کی گئی ہے: “اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ… اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرو۔”
صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے استحاضہ کے بارے میں پوچھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “جب استحاضہ ہو، تو ہر نماز کے لیے وضو کرو۔”
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ استحاضہ (جس میں لیکوریا شامل ہے) کی حالت میں عورت ہر نماز کے لیے الگ سے وضو کرے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنے ایک بیان (ایکس پوسٹ @MuftiTariqM سے حوالہ) میں اسے واضح کرتے ہیں: “لیکوریا اگر ہر وقت جاری رہتا ہو، تو یہ استحاضہ ہے۔ ایسی عورت ہر نماز کے وقت صاف کپڑے پہنے، وضو کرے، اور نماز پڑھے۔ غسل کی ضرورت تب تک نہیں جب تک جنابت نہ ہو۔”
حنفی مسلک میں استحاضہ کے احکام یہ ہیں:
مفتی صاحب فرماتے ہیں: “لیکوریا کی حالت میں عورت کو چاہیے کہ وہ صاف ستھرائی کا خاص خیال رکھے۔ ہر نماز سے پہلے وضو کرے، صاف کپڑے استعمال کرے، اور اگر ممکن ہو تو پیڈ استعمال کرے تاکہ طہارت برقرار رہے۔”
اب سوال یہ ہے کہ لیکوریا ہو تو نماز کیسے پڑھیں؟ مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں درج ذیل اقدامات ہیں:
مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنی ویڈیو “عورتوں کے شرعی مسائل” (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official) میں اس موضوع پر واضح فتوٰی دیا:
وہ اپنے ایکس ہینڈل (@MuftiTariqM) پر لکھتے ہیں: “لیکوریا کی وجہ سے عورت نماز نہ چھوڑے۔ ہر نماز کے لیے وضو کریں اور اللہ سے آسانی مانگیں۔ طہارت ایمان کا حصہ ہے۔”
لیکوریا اگر بیماری کی علامت ہو (جیسے انفیکشن یا ہارمونل عدم توازن)، تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ مفتی طارق مسعود صاحب مشورہ دیتے ہیں: “شرعی طہارت کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ اگر لیکوریا غیر معمولی ہو، تو علاج کروائیں، لیکن اس کی وجہ سے عبادات کو ترک نہ کریں۔”
کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
چند عملی مشورے:
سوال: کیا لیکوریا کی وجہ سے نماز چھوڑی جا سکتی ہے؟ جواب: نہیں، لیکوریا استحاضہ ہے، اور اس میں ہر نماز کے لیے وضو کر کے نماز پڑھنی چاہیے۔
سوال: اگر لیکوریا مسلسل ہو تو کیا کریں؟ جواب: ہر نماز کے وقت تازہ وضو کریں، صاف کپڑے پہنیں، اور پیڈ استعمال کریں۔
سوال: کیا لیکوریا کے لیے غسل ضروری ہے؟ جواب: نہیں، غسل صرف جنابت کے لیے ضروری ہے۔ لیکوریا کے لیے وضو کافی ہے۔
سوشل میڈیا پر (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) خواتین اس موضوع پر شرم کی وجہ سے کھل کر بات نہیں کرتیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “دینی مسائل کو شرم کی وجہ سے چھپائیں نہیں۔ معتبر علماء سے رہنمائی لیں اور اپنی عبادات کو جاری رکھیں۔”
ایک سروے (Women’s Health Report, 2025) کے مطابق، 60% مسلم خواتین لیکوریا جیسے مسائل کے بارے میں شرعی رہنمائی تلاش کرتی ہیں۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو لیکوریا ہو تو نماز کیسے پڑھیں جیسے سوالات کے درست جوابات دیں۔
لیکوریا ہو تو نماز کیسے پڑھیں؟ مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ لیکوریا استحاضہ ہے، اور اس حالت میں عورت ہر نماز کے لیے تازہ وضو کر کے اور صاف کپڑے استعمال کر کے نماز پڑھ سکتی ہے۔ غسل کی ضرورت صرف جنابت کی صورت میں ہے۔ طہارت کو برقرار رکھیں، ڈاکٹر سے مشورہ کریں، اور اپنی عبادات کو جاری رکھیں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے۔
