
اسلام وقت کو اللہ کی عظیم نعمت قرار دیتا ہے۔ قرآن پاک میں سورہ العصر (سورہ 103) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “والعصر، إن الإنسان لفي خسر، إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات…” ترجمہ: “قسم ہے وقت کی، بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے…”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ وقت کا صحیح استعمال ایمان اور نیک اعمال سے جڑا ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنے ایک بیان (یوٹیوب ویڈیو: “طلباء کے لیے رہنمائی”) میں فرماتے ہیں: “وقت اللہ کی امانت ہے۔ طالب علموں کو چاہیے کہ وہ اپنا وقت پڑھائی، عبادت، اور نیک کاموں میں لگائیں۔”
مطالعہ کا بہترین وقت وہ ہے جو آپ کے دماغ کو تازہ رکھے اور آپ کی توجہ کو بڑھائے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلام اور مفتی طارق مسعود صاحب اس بارے میں کیا رہنمائی دیتے ہیں۔
اسلام میں دن کے مختلف اوقات کی اپنی اہمیت ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنے ایک ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں فرماتے ہیں: “صبح کا وقت پڑھائی کے لیے سب سے بہتر ہے، کیونکہ اس وقت دماغ تازہ ہوتا ہے اور اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔”
صحیح بخاری کی ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “اے اللہ! میرے امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما۔”
یہ حدیث بتاتی ہے کہ صبح کا وقت، خاص طور پر فجر کی نماز کے بعد، ہر کام کے لیے بابرکت ہے، بشمول مطالعہ۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو “وقت کا انتظام” میں کہتے ہیں: “فجر کی نماز کے بعد 2 سے 3 گھنٹے پڑھائی کے لیے بہترین ہیں۔ اس وقت دماغ تازہ ہوتا ہے، ماحول پرسکون ہوتا ہے، اور اللہ کی برکت شامل ہوتی ہے۔”
سائنسی تحقیق بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ ایک مطالعہ (Journal of Cognitive Science, 2024) کے مطابق، صبح 5 بجے سے 8 بجے تک دماغ کی توجہ اور یادداشت کی صلاحیت عروج پر ہوتی ہے۔
کچھ طالب علم رات کو پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ مفتی صاحب فرماتے ہیں: “رات کا سکون بھی پڑھائی کے لیے موزوں ہے، لیکن رات دیر تک جاگنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ عشاء کے بعد 1 سے 2 گھنٹے پڑھائی کرنا اچھا ہے، لیکن نیند کا خیال رکھیں۔”
سورہ المزمل (آیت 6) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “بے شک رات کو اٹھنا زیادہ اثر انگیز ہے اور اس وقت تلاوت زیادہ درست ہوتی ہے۔” یہ آیت رات کے وقت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے، جو نہ صرف عبادت بلکہ مطالعہ کے لیے بھی مفید ہے۔
دوپہر اور شام کا وقت عام طور پر دماغ کے لیے کم پیداواری ہوتا ہے، کیونکہ اس وقت تھکاوٹ ہو سکتی ہے۔ مفتی صاحب مشورہ دیتے ہیں: “دوپہر کے وقت اگر آپ پڑھائی کرنا چاہتے ہیں، تو قیلولہ (دوپہر کی نیند) کے بعد پڑھیں، کیونکہ یہ سنت ہے اور دماغ کو تازگی دیتا ہے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب اپنے لیکچرز میں طالب علموں کو وقت کے انتظام کے لیے چند عملی مشورے دیتے ہیں، جو مطالعہ کا بہترین وقت منتخب کرنے میں مدد دیتے ہیں:
وہ اپنے ایک ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں لکھتے ہیں: “طالب علموں کے لیے بہترین وقت وہی ہے جب وہ تازہ دم ہوں اور دل عبادت سے منور ہو۔ فجر کے بعد پڑھائی اللہ کی رحمت سے بھرپور ہوتی ہے۔”
جدید تحقیق بھی اسلامی رہنمائی کی تائید کرتی ہے۔ درج ذیل نکات اہم ہیں:
ایک سروے (Education Journal, 2025) کے مطابق، 60% طالب علم صبح کے وقت زیادہ پیداواری ہوتے ہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب اسے اسلامی نقطہ نظر سے جوڑتے ہوئے کہتے ہیں: “صبح کا وقت اللہ کی رحمت سے بھرپور ہوتا ہے، اسے ضائع نہ کریں۔”
مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں، یہاں چند عملی نکات ہیں:
کچھ طالب علم رات دیر تک پڑھنے کو بہتر سمجھتے ہیں، لیکن مفتی صاحب فرماتے ہیں: “رات دیر تک جاگنا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ فجر کے بعد پڑھائی زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔”
ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ زیادہ پڑھنا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ مفتی صاحب کہتے ہیں: “زیادہ پڑھائی سے نہیں، بلکہ منظم پڑھائی سے کامیابی ملتی ہے۔”
سوال: مطالعہ کا بہترین وقت کون سا ہے؟ جواب: فجر کے بعد 2-3 گھنٹے سب سے بہتر ہیں، کیونکہ یہ وقت بابرکت اور دماغ کے لیے فعال ہوتا ہے۔
سوال: کیا رات کو پڑھنا ٹھیک ہے؟ جواب: ہاں، لیکن عشاء کے بعد 1-2 گھنٹے تک۔ زیادہ دیر جاگنے سے صحت خراب ہو سکتی ہے۔
سوال: کیا دعا پڑھائی میں مدد دیتی ہے؟ جواب: جی ہاں، “رب زدنی علما” پڑھنا اور اللہ سے برکت مانگنا پڑھائی کو آسان بناتا ہے۔
آج کل سوشل میڈیا (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) طالب علموں کے لیے ایک بڑا فتنہ ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی پڑھائی اور عبادت پر توجہ دیں۔ وقت کی قدر کریں، کیونکہ یہ واپس نہیں آتا۔”
ایک سروے (Student Productivity Report, 2025) کے مطابق، 75% طالب علم سوشل میڈیا کی وجہ سے پڑھائی میں توجہ کھو دیتے ہیں۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو مطالعہ کا بہترین وقت جیسے موضوعات پر رہنمائی دیں۔
مطالعہ کا بہترین وقت فجر کے بعد کا وقت ہے، کیونکہ یہ بابرکت، پرسکون، اور دماغ کے لیے سب سے زیادہ فعال ہوتا ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کے مطابق، وقت کا انتظام کریں، دعا مانگیں، اور سوشل میڈیا سے دور رہیں۔ اپنی پڑھائی کو منظم کریں اور اللہ سے برکت مانگیں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید علمی اور دینی رہنمائی ملتی رہے۔
