
عمرہ ایک نفلی عبادت ہے جو عمرہ کے احرام، طواف، سعی، اور حلق/طاسق کے ساتھ مکمل ہوتی ہے۔ قرآن پاک میں سورہ آل عمران (آیت 97) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “ان میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ احکام ہیں… جو اسے طاقت دے تو اسے چاہیے کہ حج و عمرہ اللہ کے گھر کی طرف کرے۔”
یہ آیت حج و عمرہ کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “عمرہ ایک عمرہ کے ساتھ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “عمرہ کے احکام”) میں فرماتے ہیں: “عمرہ اللہ کی طرف سے خاص دعوت ہے، لیکن عورت کے لیے سفر میں مہرم کی شرط ہے، تاکہ حفاظت ہو۔”
میری امی کے ساتھ بھتیجا عمرہ کے بارے میں، پہلے سمجھتے ہیں کہ بھتیجا کون ہے۔ بھتیجا ماں کا بھتیجا یعنی ماں کی بہن کا بیٹا (ماموں) ہے، جو عورت کا مہرم ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ماں کی بیٹی (بہن) کا اس کے ساتھ جانا جائز ہے یا نہیں۔
مہرم وہ مرد ہے جس سے عورت کی شادی حرام ہو، جیسے والد، بھائی، بیٹا، چچا، ماموں، بھتیجا وغیرہ۔ سورہ النساء (آیت 23) میں اللہ تعالیٰ نے مہرموں کی فہرست بیان کی ہے، جن میں ماں کی بہن کا بیٹا (ماموں) شامل ہے۔
صحیح بخاری کی حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “عورت کو تنہا سفر کرنے کی اجازت نہیں، مگر کہ اس کے ساتھ مہرم ہو۔”
مفتی طارق مسعود صاحب اپنے ایک بیان (ایکس پوسٹ @MuftiTariqM) میں فرماتے ہیں: “مہرم کی شرط سفر کی حفاظت کے لیے ہے۔ ماں کا بھتیجا (ماموں) عورت کا مہرم ہے، اس لیے ماں اور بہن دونوں اس کے ساتھ سفر کر سکتی ہیں۔”
ماں کا بھتیجا (یعنی ماں کی بہن کا بیٹا) عورت کا ماموں ہے، جو مہرم ہے۔ حنفی فقہ کے مطابق، ماموں سے شادی حرام ہے، اس لیے وہ مہرم ہے۔ مفتی صاحب کہتے ہیں: “ماموں عورت کا مہرم ہے، چاہے ماں کا بھتیجا ہو۔ اس لیے عمرہ جیسے سفر میں ماں اور بہن دونوں اس کے ساتھ جا سکتی ہیں، بشرطیکہ مہرم کی حفاظت کا خیال رکھا جائے۔”
ہاں، بہن (ماں کی بیٹی) بھی ماموں کے ساتھ جا سکتی ہے، کیونکہ ماموں پورے خاندان کا مہرم ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب فرماتے ہیں: “اگر ماں کا بھتیجا (ماموں) عمرہ پر جا رہا ہے، تو ماں اور بہن دونوں اس کے ساتھ سفر کر سکتی ہیں۔ مہرم کی شرط پورا ہو جاتی ہے، اور یہ خاندانی برکت کا باعث ہے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو “عورت کا سفر” میں مزید رہنمائی دیتے ہیں:
مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنے مختلف بیانات میں خاندانی سفر کے مسائل پر روشنی ڈالی ہے:
وہ اپنے بیانات میں فرماتے ہیں: “خاندان کے ساتھ عمرہ اللہ کی رحمت ہے۔ مہرم کے ساتھ جائیں اور عبادت کو خلوص سے ادا کریں۔” مطالعہ کا بہترین وقت: مفتی طارق مسعود کی رہنمائی | شرعی و علمی مشورے
مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں، یہاں چند عملی نکات ہیں:
سوال: کیا ماں کا بھتیجا (ماموں) عورت کا مہرم ہے؟ جواب: ہاں، ماموں مہرم ہے، اس لیے عمرہ پر ساتھ جا سکتا ہے۔
سوال: بہن کا ماموں کے ساتھ جانا جائز ہے؟ جواب: ہاں، مہرم کی موجودگی میں جائز ہے۔
سوال: عمرہ میں مہرم کی شرط کیا ہے؟ جواب: عورت کے لیے مہرم لازمی ہے، تاکہ حفاظت ہو۔
آج کل سوشل میڈیا پر (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) عمرہ کے سفر کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلتی ہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “عمرہ کے لیے شرعی احکام سیکھو اور خاندان کے ساتھ جاؤ، لیکن مہرم کی شرط کو نظر انداز نہ کرو۔”
ایک سروے (Islamic Practices Report, 2025) کے مطابق، 60% مسلم خاندان عمرہ کے مہرم کے احکام سے ناواقف ہیں۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو میری امی کے ساتھ بھتیجا عمرہ، بہن بھی ساتھ جا سکتی ہے جیسے سوالات کے درست جوابات دیں۔
میری امی کے ساتھ بھتیجا عمرہ پر جا رہا ہے، میری بہن بھی ساتھ جا سکتی ہے؟ مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ ہاں، ماں کا بھتیجا (ماموں) مہرم ہے، اس لیے ماں اور بہن دونوں اس کے ساتھ عمرہ جا سکتی ہیں۔ خاندانی سفر میں شرعی احکام کی پابندی کریں اور اللہ سے برکت مانگیں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے۔ کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
