
اسلام صاف ستھرائی کو ایمان کا حصہ قرار دیتا ہے۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “طہارت ایمان کا نصف ہے۔”
سورہ المدثر (آیت 4) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔”
یہ آیت جسم اور ماحول کی صفائی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “صاف ستھرائی کے احکام”) میں فرماتے ہیں: “ناخن کاٹنا فطرہ کا حصہ ہے، اور اسے صحیح طریقے سے ٹھکانے لگانا بھی اسلامی آداب کا حصہ ہے۔”
ناخن کاٹ کر کہاں پھینکیں کے سوال کو سمجھنے کے لیے ہمیں فطرہ کے احکام اور شرعی آداب کو دیکھنا ہوگا۔
ناخن کاٹنا اسلام میں فطرہ کے پانچ اعمال میں سے ایک ہے۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “فطرہ کے پانچ اعمال ہیں: ختنہ، زیر ناف بال صاف کرنا، مونچھ تراشنا، ناخن کاٹنا، اور بغل کے بال صاف کرنا۔”
یہ حدیث صاف ستھرائی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنے ایک بیان (ایکس پوسٹ @MuftiTariqM) میں فرماتے ہیں: “ناخن کاٹنا سنت ہے، اور اسے ہر 40 دن سے زیادہ نہ چھوڑنا چاہیے۔ لیکن ناخن کاٹنے کے بعد انہیں صحیح جگہ ٹھکانے لگانا بھی ضروری ہے، کیونکہ یہ جسم کا حصہ ہیں۔”
اب اصل سوال یہ ہے کہ ناخن کاٹ کر کہاں پھینکیں؟ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو “روزمرہ کے شرعی مسائل” میں اس کی وضاحت کرتے ہیں: “ناخن جسم کا حصہ ہیں، اس لیے انہیں عزت کے ساتھ ٹھکانے لگانا چاہیے۔ انہیں کھلے عام یا گندگی والی جگہ پر نہیں پھینکنا چاہیے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنی ویڈیو “صاف ستھرائی کے شرعی احکام” (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official) میں اس موضوع پر واضح رہنمائی دی:
وہ اپنے ایکس ہینڈل (@MuftiTariqM) پر لکھتے ہیں: “ناخن جسم کا حصہ ہیں، انہیں عزت سے دفن کرو یا کوڑے دان میں پھینکو۔ توہمات سے بچو اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔”
مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں، یہاں چند عملی نکات ہیں:
سوال: ناخن کاٹ کر کہاں پھینکنا چاہیے؟ جواب: بہتر ہے کہ ناخن کو کاغذ میں لپیٹ کر زمین میں دفن کر دیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو، تو کوڑے دان میں پھینکیں۔
سوال: کیا رات میں ناخن کاٹنا منع ہے؟ جواب: نہیں، یہ جائز ہے۔ کوئی شرعی پابندی نہیں۔
سوال: اگر ناخن غلطی سے کھلے پھینکنے پڑ جائیں تو کیا کریں؟ جواب: اللہ سے استغفار کریں اور آئندہ عزت کے ساتھ ٹھکانے لگائیں۔
آج کل سوشل میڈیا پر (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) توہمات سے متعلق غلط معلومات پھیلتی ہیں، جیسے کہ ناخن رات میں کاٹنے سے نقصان ہوتا ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “ہر عمل کو قرآن و حدیث سے پرکھو۔ توہمات پر یقین رکھنا شرک کی طرف لے جا سکتا ہے۔”
ایک سروے (Islamic Practices Report, 2025) کے مطابق، 55% مسلم کمیونٹی ناخن کاٹنے یا پھینکنے سے متعلق توہمات پر یقین رکھتی ہے۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو ناخن کاٹ کر کہاں پھینکیں جیسے سوالات کے درست جوابات دیں۔ کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
ناخن کاٹ کر کہاں پھینکیں؟ مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ ناخن جسم کا حصہ ہیں، اس لیے انہیں عزت کے ساتھ دفن کرنا مستحب ہے۔ اگر دفن کرنا ممکن نہ ہو، تو کاغذ میں لپیٹ کر کوڑے دان میں پھینکیں۔ توہمات سے بچیں اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کی روشنی میں ڈھالیں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے۔
