
اسلام میں رشتوں کی اہمیت کو بہت زیادہ مقام دیا گیا ہے۔ والدین اور بیوی دونوں کے حقوق قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔
قرآن پاک میں سورہ الإسراء (آیت 23) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اور تیرے رب نے فیصلہ کیا کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو۔”
یہ آیت والدین کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “والدین کی رضا اللہ کی رضا ہے، اور والدین کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “والدین کے حقوق”) میں فرماتے ہیں: “والدین کا حق سب سے بڑا ہے، کیونکہ انہوں نے تمہیں پالا، پرورش کی، اور تمہاری زندگی کے لیے قربانیاں دیں۔ ان کی خدمت اور اطاعت ہر حال میں ضروری ہے، بشرطیکہ وہ حرام کام کا حکم نہ دیں۔”
بیوی کے حقوق بھی اسلام میں انتہائی اہم ہیں۔ سورہ النساء (آیت 19) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اے ایمان والو! تم کے لیے جائز نہیں کہ عورتوں کو زبردستی وراثت میں لے لو… اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔”
صحیح مسلم کی ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب اپنے ایک ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں لکھتے ہیں: “بیوی گھر کی ملکہ ہے۔ اس کا حق ہے کہ اسے عزت، محبت، اور نان نفقہ دیا جائے۔ شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کے حقوق پورے کرے۔”
اب سوال یہ ہے کہ اگر والدین اور بیوی کے درمیان تعلق میں تناؤ ہو تو کس کا حق مقدم ہے؟ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو “والدین اور بیوی کے حقوق” میں اسے واضح کرتے ہیں: “والدین کا حق اللہ کے بعد سب سے بڑا ہے، کیونکہ وہ تمہاری زندگی کا باعث ہیں۔ لیکن بیوی کا حق بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ تمہاری شریک حیات ہے۔ دونوں کے درمیان توازن رکھنا ضروری ہے۔”
حنفی مسلک کے مطابق:
مفتی صاحب فرماتے ہیں: “اگر والدین اور بیوی میں تنازع ہو، تو شوہر کو چاہیے کہ دونوں کے حقوق کا خیال رکھے۔ والدین کی خدمت کرے، لیکن بیوی کو نظرانداز نہ کرے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنی ویڈیو “خاندانی مسائل” (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official) میں اس موضوع پر واضح رہنمائی دی:
وہ اپنے ایکس ہینڈل (@MuftiTariqM) پر لکھتے ہیں: “والدین اور بیوی دونوں کے حقوق اہم ہیں۔ انصاف کرو، اللہ سے دعا مانگو، اور خاندان میں محبت قائم رکھو۔”
مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں، یہاں چند عملی نکات ہیں:
سوال: اگر والدین بیوی کے ساتھ رہنے سے منع کریں تو کیا کریں؟ جواب: بیوی کو الگ گھر دینا شوہر کا حق ہے۔ والدین سے محبت سے بات کریں اور انہیں سمجھائیں۔
سوال: کیا بیوی کی بات ماننا والدین کی نافرمانی ہے؟ جواب: نہیں، بیوی کے حقوق پورے کرنا شرعی ذمہ داری ہے۔ والدین کی خدمت کے ساتھ توازن رکھیں۔
سوال: اگر دونوں کے درمیان تنازع ہو تو کیا کریں؟ جواب: دونوں سے بات کریں، صلح کروائیں، اور اللہ سے دعا مانگیں۔
آج کل سوشل میڈیا پر (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) خاندانی مسائل کے بارے میں بحثیں عام ہیں۔ کچھ لوگ والدین یا بیوی کے حقوق کو ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جو تنازعات کا باعث بنتا ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “خاندان میں محبت اور انصاف قائم رکھو۔ والدین اور بیوی دونوں کے حقوق پورے کرو، کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے۔”
ایک سروے (Family Dynamics Report, 2025) کے مطابق، 65% مسلم خاندانوں میں والدین اور بیوی کے حقوق کے بارے میں الجھن پائی جاتی ہے۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو والدین اور بیوی میں زیادہ حق کس کا ہے جیسے سوالات کے درست جوابات دیں۔
والدین اور بیوی میں زیادہ حق کس کا ہے؟ مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ والدین کا حق اللہ کے بعد سب سے بڑا ہے، لیکن بیوی کے حقوق کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں کے درمیان توازن رکھنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ گفتگو، صبر، اور دعا سے خاندانی مسائل حل کریں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے۔
