
شرک اللہ کے ساتھ کسی اور کو اس کی صفات یا اختیارات میں شریک کرنا ہے۔ قرآن پاک میں سورہ النساء (آیت 48) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شریک کیا جائے، اور اس کے سوا جو چاہے بخش دیتا ہے۔”
یہ آیت شرک کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “شرک سے بچاؤ”) میں فرماتے ہیں: “شرک وہ عمل ہے جو اللہ کے سوا کسی اور سے مدد مانگنے یا اسے اللہ کا ہمسر سمجھنے کا باعث بنے۔ تعویز کا معاملہ اسی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔”
کیا تعویز لٹکانا شرک ہے؟ اس کا جواب جاننے کے لیے ہمیں تعویز کے شرعی احکام کو سمجھنا ہوگا۔
تعویز ایک ایسی چیز ہے جسے عام طور پر کاغذ، دھات، یا کپڑے پر لکھ کر گلے، بازو، یا گھر میں لٹکایا جاتا ہے۔ اس پر قرآنی آیات، دعائیں، یا دیگر الفاظ لکھے ہوتے ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حفاظت یا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہیں۔
مفتی طارق مسعود صاحب اپنے ایک ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں فرماتے ہیں: “تعویز کا شرعی حکم اس کے مواد اور نیت پر منحصر ہے۔ اگر اس میں قرآنی آیات یا جائز دعائیں ہیں اور نیت اللہ سے شفا مانگنا ہے، تو یہ جائز ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے اللہ کے سوا کسی اور سے جوڑا جائے، تو یہ شرک ہے۔”
تعویز کے استعمال کے بارے میں فقہاء کے مختلف آراء ہیں، لیکن حنفی مسلک کی روشنی میں اسے تین زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنی ویڈیو “تعویز کے شرعی احکام” (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official) میں اس موضوع پر واضح رہنمائی دی:
وہ اپنے ایکس ہینڈل (@MuftiTariqM) پر لکھتے ہیں: “تعویز شرک تب بنتا ہے جب اسے اللہ کے سوا سے جوڑا جائے۔ قرآن سے شفا مانگو، اللہ پر بھروسہ رکھو، اور غیر شرعی تعویز سے بچو۔”
مفتی طارق مسعود صاحب تعویز کے بجائے قرآنی آیات اور دعاؤں پر زور دیتے ہیں۔ کچھ عملی مشورے یہ ہیں:
مفتی صاحب کہتے ہیں: “تعویز سے زیادہ قرآن اور دعا کی طاقت پر یقین رکھو۔ اللہ ہی شفا دیتا ہے۔”
سوال: کیا قرآنی تعویز لٹکانا جائز ہے؟ جواب: ہاں، اگر اس میں قرآنی آیات یا سنت سے ثابت دعائیں ہوں اور نیت اللہ سے شفا کی ہو، تو جائز ہے۔
سوال: اگر تعویز میں نامعلوم الفاظ ہوں تو کیا کریں؟ جواب: ایسی تعویز سے اجتناب کریں اور معتبر عالم سے تصدیق کرائیں۔
سوال: کیا تعویز کے بجائے دعا کافی ہے؟ جواب: جی ہاں، قرآن اور دعا تعویز سے زیادہ افضل ہیں۔ اللہ سے براہ راست مانگیں۔
آج کل سوشل میڈیا پر (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) تعویز کے بارے میں غلط معلومات پھیلتی ہیں۔ کچھ لوگ غیر شرعی تعویزات کو فروغ دیتے ہیں، جو شرک کا باعث بن سکتا ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “غیر شرعی تعویزات سے بچو اور اپنے مسائل کے لیے اللہ سے دعا مانگو۔ معتبر علماء سے رہنمائی لینا ضروری ہے۔”
ایک سروے (Islamic Practices Report, 2025) کے مطابق، 55% مسلم کمیونٹی تعویز کے شرعی احکام کے بارے میں الجھن کا شکار ہے۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو کیا تعویز لٹکانا شرک ہے جیسے سوالات کے درست جوابات دیں۔
کیا تعویز لٹکانا شرک ہے؟ مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ تعویز جائز ہو سکتا ہے اگر اس میں قرآنی آیات یا سنت سے ثابت دعائیں ہوں اور نیت اللہ سے شفا مانگنے کی ہو۔ لیکن اگر تعویز غیر شرعی ہو یا اسے اللہ کے سوا سے جوڑا جائے، تو یہ شرک ہے۔ مسائل کے حل کے لیے قرآن، دعا، اور توکل پر انحصار کریں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے۔
