
ارے یار! اذان شروع ہوئی، کانوں میں اللہ أكبر گونج رہا ہے، اور ہاتھ میں چائے کی پیالی یا بریانی کی پلیٹ ہے — اب کیا کروں؟ روک دوں یا جاری رکھوں؟ یہ سوال تو ہر گھر میں اٹھتا ہے، خاص کر فجر کی اذان کے وقت جب سحری کا آخری لقمہ منہ میں ہو۔ آج مفتی طارق مسعود صاحب کے فتویٰ اور askmuftitariqmasood.com کی روشنی میں مکمل تفصیل دیتے ہیں کہ اذان کے دوران کھانا پینا جائز ہے یا نہیں۔
اذان نماز کی دعوت ہے، نہ کہ نماز کا آغاز۔ جیسے مہمان کے گھر آنے کا اعلان ہو، لیکن دعوت ابھی شروع نہیں ہوئی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب اذان ہو جائے تو کھانا پینا نہ چھوڑو، یہاں تک کہ نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔” (ابو داؤد، صحیح)
یعنی اذان سے لے کر تکبیر تک کھانا پینا جائز ہے۔
فجر کی اذان سحری بند کرنے کا وقت نہیں۔ سحری کا اختتام صبح صادق (سفیدی پھیلنے) پر ہوتا ہے۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے تھے، اور ابن ام مکتوم صبح صادق پر۔ نبی ﷺ نے فرمایا: “بلال کی اذان پر کھانا نہ چھوڑو، ابن ام مکتوم کی اذان پر چھوڑو۔” (بخاری)
| صورتحال | حکم | وجہ |
|---|---|---|
| فجر کی اذان ہو رہی، منہ میں لقمہ ہے | ✅ کھاؤ | تکبیر تک وقت ہے |
| مغرب کی اذان، افطاری کا انتظار | ✅ فوراً کھاؤ | روزہ ٹوٹ چکا |
| اذان ہو گئی، وضو کے لیے جا رہا ہوں، راستے میں پانی پی لیا | ✅ جائز | نماز شروع نہیں ہوئی |
| اذان کے دوران ٹی وی دیکھتے کھانا | ❌ مکروہ | اذان کا ادب نہیں |
مفتی صاحب فرماتے ہیں: “اذان سن کر فوراً جواب دو، کھانا بعد میں کھا لینا۔ لیکن اگر سحری کا آخری لقمہ ہے تو پہلے کھاؤ، پھر جواب دو۔”
اگر منہ میں کھانا ہے اور اذان شروع ہو گئی:
ایک صاحب نے askmuftitariqmasood.com پر لکھا:
“فجر کی اذان ہو رہی تھی، میں نے چائے پی لی۔ کیا روزہ ٹوٹ گیا؟” مفتی صاحب: “نہیں! اذان تو اعلان ہے، صبح صادق پر دھیان دو۔”
askmuftitariqmasood.com پر مفتی صاحب فرماتے ہیں:
“اذان کے دوران کھانا پینا جائز ہے، لیکن ادب ملحوظ رکھو۔ سحری کا آخری لقمہ تکبیر تک کھا لو۔ اگر اذان ہو گئی اور تم نے کھایا تو روزہ صحیح ہے، بس صبح صادق کا خیال رکھو۔”
ویڈیو لنک وہاں موجود ہے، ضرور دیکھیں۔
بھائی، اذان رکاوٹ نہیں، دعوت ہے۔ کھانا پینا جائز ہے، لیکن دل سے جواب دو۔ فجر کی سحری ہو یا مغرب کی افطاری — اللہ کی رضا مقدم۔
یاد رکھو: “جو شخص اذان سن کر جواب نہ دے، اس کی نماز میں خیر نہیں۔” (مسلم)
اللہ ہم سب کو اذان کا ادب اور نماز کی پابندی کی توفیق دے۔ اگر کوئی اور سوال ہو جیسے “اذان کے دوران فون اٹھانا؟” یا “بچوں کو اذان سکھانے کا طریقہ؟” — تو askmuftitariqmasood.com پر لکھو یا نیچے کمنٹ کرو۔
(کلمات: ۹۳۵)
متعلقہ پوڈکاسٹس:
سوال ہے کہ کیا زکوٰۃ کا مال مسجد کے باتھ روم، وضو خانے یا ٹائلوں وغیرہ میں لگایا جا سکتا ہے؟
نابالغ کی وراثت کا حکم: اسلامی شریعت کی روشنی میں
روزے میں غسل کے دوران ناک میں کہاں تک پانی پہنچائے | غسل کے فرائض اور روزہ | مفتی طارق مسعود سے سوال
