
اے دوستو! آج کل کا سب سے بڑا سوال: لڑکے اور لڑکیاں ایک ہی کلاس روم میں بیٹھیں، ایک ہی بینچ پر، ایک ہی گروپ ورک کریں — کیا یہ ٹھیک ہے؟ ماں باپ پریشان، بچے کنفیوز، اور سکول والے کہتے ہیں “یہ تو جدید دور ہے!” لیکن اللہ کا دین تو ہمیشہ سے واضح ہے۔ آئیے قرآن، حدیث اور مفتی طارق مسعود صاحب کے فتویٰ کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ کو-ایجوکیشن سکول میں پڑھنا جائز ہے یا نہیں۔ ویب سائٹ askmuftitariqmasood.com پر یہ سوال ہزاروں بار آیا ہے، اور جواب ہمیشہ ایک ہی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور (آیت 30-31) میں فرمایا:
“مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں… اور مومن عورتوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔”
یہ آیت نگاہ کی حفاظت کا حکم دیتی ہے۔ اب کلاس روم میں لڑکا لڑکی ساتھ بیٹھیں، گروپ ڈسکشن کریں، پراجیکٹ بنائیں — کیا نگاہ نیچی رہ سکتی ہے؟
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
“عورت کا مرد کے پاس جانا اور مرد کا عورت کے پاس جانا دونوں حرام ہیں سوائے محرم کے۔” (بخاری و مسلم)
اب سکول میں محرم نہیں ہوتا۔ تو کیا یہ اختلاط جائز ہے؟
مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ کو-ایجوکیشن میں تین بڑے فتنے ہیں:
| فتنہ | تفصیل | شرعی حکم |
|---|---|---|
| نگاہ کا فتنہ | لڑکے لڑکیاں ساتھ بیٹھیں تو نگاہ کہاں جائے گی؟ | حرام |
| گفتگو کا فتنہ | غیر ضروری باتیں، فلرٹ، واٹس ایپ گروپس | گناہ کا دروازہ |
| جسمانی رابطہ | ہائی فائیو، گروپ فوٹو، ڈرامہ پلے | فتنہ کا آغاز |
ایک ماں نے askmuftitariqmasood.com پر لکھا:
“میری 14 سالہ بیٹی کو-ایجوکیشن سکول میں پڑھتی ہے۔ اب وہ لڑکوں سے واٹس ایپ پر بات کرتی ہے، دیر رات آن لائن رہتی ہے۔ کیا کروں؟”
مفتی صاحب کا جواب: “فوراً سکول بدلو، اللہ کی رضا مقدم ہے۔”
نہیں! بالکل نہیں! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔” (ابن ماجہ)
لیکن طریقہ کار اہم ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے لڑکیوں کو گھر میں تعلیم دی، کبھی مردوں کے ساتھ نہیں بیٹھیں۔
| عمر | بہترین آپشن | وجہ |
|---|---|---|
| 5-12 سال | الگ پرائمری سکول | معصومیت برقرار |
| 13-18 سال | گرلز ہائی سکول / آن لائن | بلوغت کا خطرہ |
| 18+ | یونیورسٹی الگ سیکشن | شرعی پردہ |
مفتی صاحب askmuftitariqmasood.com پر فرماتے ہیں:
“کو-ایجوکیشن سکول میں پڑھنا جائز نہیں، کیونکہ یہ اختلاطِ مرد و زن کا سبب بنتا ہے۔ اگر مجبور ہیں تو کم سے کم وقت، مکمل پردہ، اور ولی کی نگرانی میں۔ لیکن بہتر ہے الگ نظام تلاش کریں۔”
ویڈیو لنک بھی وہاں موجود ہے، ضرور دیکھیں۔
بھائی بہنو، تعلیم حاصل کرو، لیکن اللہ کے حدود میں۔ کو-ایجوکیشن آسان لگتا ہے، لیکن آخرت میں سوال ہوگا:
“تم نے میری حدود کیوں توڑیں؟”
اللہ ہم سب کو حلال تعلیم اور پاکیزہ نسل کی توفیق دے۔ اگر کوئی اور سوال ہو، جیسے “آن لائن کلاسز میں کیمرہ آن رکھنا؟” یا “لڑکیاں انجینئرنگ پڑھ سکتی ہیں؟” — تو askmuftitariqmasood.com پر لکھیں یا نیچے کمنٹ کریں۔
(کلمات: ۹۱۲)
متعلقہ مضامین:
