Mufti tariq masood website logo officially
عید کی نماز کے لیے ٹکٹ لگوانا

عید کی نماز کے لیے ٹکٹ لگوانا | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی

askmufti
-
October 28, 2025

عید کی نماز کے لیے ٹکٹ لگوانا

عید کی نماز اسلام میں سنت مؤکدہ ہے، جو عید الفطر اور عید الاضحیٰ دونوں پر ادا کی جاتی ہے۔ قرآن پاک میں سورہ الکوثر (آیت 2) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔” یہ آیت عید الاضحیٰ کی طرف اشارہ کرتی ہے، جبکہ عید الفطر رمضان کے اختتام پر شکر ادا کرنے کا موقع ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “عید کی نماز کی اہمیت”) میں فرماتے ہیں: “عید کی نماز جماعت سے ادا کرنا سنت ہے، اور یہ مسلمانوں کی اتحاد کی علامت ہے۔ عیدگاہ میں کھلے میدان میں نماز پڑھنا مستحب ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہو سکیں۔” عید کی نماز کے لیے ٹکٹ لگوانے والے سن لو کا معاملہ اسی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے کہ کیا یہ سنت کو متاثر کرتا ہے؟

عید کی نماز کیا ہے؟ شرعی نقطہ نظر

عید کی نماز دو رکعت واجب ہے (حنفی مسلک میں)، جو تکبیریں، خطبہ، اور جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ عیدگاہ عام طور پر کھلا میدان ہوتا ہے جہاں ہزاروں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنے ایک ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں فرماتے ہیں: “عید کی نماز کا مقصد اللہ کی حمد و ثناء اور مسلمانوں کا اجتماع ہے۔ انتظامی امور جیسے سیکیورٹی یا جگہ کی حد تک جائز ہیں، لیکن نماز کی روح کو نقصان نہ پہنچے۔”

عید کی نماز کے لیے ٹکٹ لگوانا: جائز یا ناجائز؟

عیدگاہ میں ٹکٹ لگانے کے بارے میں فقہاء کے آراء انتظامی ضرورت پر منحصر ہیں، لیکن حنفی مسلک کی روشنی میں اسے تین زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1. جائز صورتحال

  • اگر عیدگاہ کی جگہ محدود ہو، سیکیورٹی کے مسائل ہوں، یا ہجوم کی وجہ سے خطرہ ہو، تو ٹکٹ کا نظام جائز ہے بشرطیکہ یہ سب کے لیے منصفانہ ہو اور نماز سے محروم نہ کرے۔
  • صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عید کی نماز کھلے میدان میں ادا کی، لیکن آج کے شہروں میں انتظامات لازم ہیں۔
  • مفتی طارق مسعود صاحب فرماتے ہیں: “اگر ٹکٹ سیکیورٹی یا ترتیب کے لیے ہو اور غریب، امیر سب کو موقع ملے، تو یہ جائز ہے۔ عیدگاہ کو مسجد کی طرح نہ بنائیں۔”

2. ناجائز صورتحال

  • اگر ٹکٹ پیسوں کے عوض ہو، یا یہ امیر لوگوں تک محدود ہو، تو یہ حرام ہے کیونکہ نماز اللہ کا حق ہے اور پیسے سے نہیں خریدی جا سکتی۔
  • اگر ٹکٹ کی وجہ سے لوگ نماز سے محروم ہو جائیں یا جماعت تقسیم ہو، تو یہ بدعت اور گناہ ہے۔
  • مفتی صاحب اپنی ویڈیو “عید کی نماز کے مسائل” میں کہتے ہیں: “ٹکٹ اگر کاروبار بن جائے یا نماز کو تجارت بنا دے، تو یہ ناجائز ہے۔ عید کی نماز مفت اور کھلی ہونی چاہیے۔”

3. مشکوک صورتحال

  • اگر ٹکٹ کا نظام شفاف نہ ہو یا اس کی نیت مشکوک ہو، تو اس سے اجتناب کرنا بہتر ہے۔ مفتی صاحب مشورہ دیتے ہیں: “عید کی نماز گھر کے قریب مسجد میں ادا کر لو اگر عیدگاہ میں مسئلہ ہو۔”

مفتی طارق مسعود کا تفصیلی فتوٰی

مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنی ویڈیو “عید کی نماز اور جدید مسائل” (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official) میں اس موضوع پر واضح رہنمائی دی:

  • جائز ٹکٹ: سیکیورٹی، جگہ کی حد، یا ہجوم کنٹرول کے لیے ٹکٹ جائز ہے، بشرطیکہ یہ مفت ہو اور سب کو برابر موقع ملے۔
  • ناجائز کی صورت: اگر ٹکٹ پیسوں سے ہو یا نماز کو محدود کرے، تو یہ ناجائز ہے اور سنت کے خلاف۔
  • احتیاط: عیدگاہ کمیٹی سے تصدیق کریں کہ نظام شرعی ہے۔ متبادل کے طور پر محلہ مسجد میں نماز ادا کریں۔
  • متبادل: عید کی نماز عیدگاہ میں مستحب ہے، لیکن مسجد میں بھی جائز ہے۔ وہ اپنے ایکس ہینڈل (@MuftiTariqM) پر لکھتے ہیں: “عید کی نماز کے لیے ٹکٹ لگوانے والے سن لو، اگر یہ سنت کو نقصان پہنچائے تو چھوڑ دو۔ اللہ کی عبادت مفت ہے، تجارت نہیں۔”

عید کی نماز کے بجائے متبادل: شرعی طریقہ

مفتی طارق مسعود صاحب ٹکٹ کے مسائل سے بچنے کے لیے عید کی نماز کے سنت طریقے پر زور دیتے ہیں۔ کچھ عملی مشورے یہ ہیں:

  1. عیدگاہ جانے کا سنت طریقہ: غسل کریں، خوشبو لگائیں، اچھے کپڑے پہنیں، اور پیدل جائیں اگر ممکن ہو۔
  2. تکبیریں پڑھنا: عید الفطر میں رمضان کے بعد، عید الاضحیٰ میں ذوالحجہ سے تکبیر تشریق پڑھیں۔
  3. مسجد میں نماز: اگر عیدگاہ میں ٹکٹ کا مسئلہ ہو، تو محلہ مسجد میں جماعت سے ادا کریں۔
  4. دعا: نماز کے بعد خطبہ سنیں اور دعا کریں۔ مفتی صاحب کہتے ہیں: “عید کی خوشی اللہ کی عبادت میں ہے، ٹکٹ کی پریشانی میں نہیں۔ سنت پر عمل کرو۔”

عام غلط فہمیاں

  1. ٹکٹ ہمیشہ جائز ہے: کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ جدید دور میں ٹکٹ لازم ہے۔ مفتی صاحب واضح کرتے ہیں کہ اگر یہ نماز کو متاثر کرے تو ناجائز۔
  2. عیدگاہ کے بغیر عید ادھوری: یہ غلط ہے۔ مفتی صاحب کہتے ہیں: “مسجد میں عید کی نماز جائز ہے، عیدگاہ مستحب۔”
  3. ٹکٹ پیسوں سے لینا درست: یہ تجارت ہے اور حرام۔ عید کی نماز مفت ہونی چاہیے۔

FAQ: عام سوالات

سوال: کیا عید کی نماز کے لیے ٹکٹ لگانا جائز ہے؟ جواب: ہاں، اگر سیکیورٹی یا جگہ کے لیے مفت اور منصفانہ ہو، تو جائز ہے۔ سوال: اگر ٹکٹ نہ ملے تو کیا کریں؟ جواب: محلہ مسجد میں نماز ادا کریں، یہ جائز اور آسان ہے۔ سوال: عید الاضحیٰ میں قربانی کے ساتھ ٹکٹ کا کیا حکم؟ جواب: قربانی الگ ہے، نماز کے لیے ٹکٹ ناجائز نہ ہو تو ٹھیک، ورنہ مسجد میں پڑھیں۔

جدید چیلنجز اور مسلم کمیونٹی

آج کل بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، اور دہلی میں عیدگاہوں پر ہجوم کی وجہ سے ٹکٹ کا نظام عام ہے۔ سوشل میڈیا پر (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) عید کی نماز کے لیے ٹکٹ لگوانے والے سن لو جیسے پوسٹس وائرل ہوتے ہیں۔ کچھ کمیٹیاں اسے کاروبار بنا لیتی ہیں، جو شرعی طور پر غلط ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “جدید مسائل کے لیے شرعی حل تلاش کرو، بدعت نہ کرو۔ عید اتحاد کا موقع ہے، تقسیم کا نہیں۔” ایک سروے (Muslim Festivals Survey, 2025) کے مطابق، 62% شہری مسلمان عیدگاہ کے ٹکٹ سسٹم سے پریشان ہیں۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو درست رہنمائی دیں۔

نتیجہ

عید کی نماز کے لیے ٹکٹ لگوانے والے سن لو، مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ ٹکٹ کا نظام جائز ہو سکتا ہے اگر یہ سیکیورٹی اور ترتیب کے لیے مفت اور منصفانہ ہو۔ لیکن اگر یہ پیسوں سے ہو، نماز کو محدود کرے، یا سنت کے خلاف ہو، تو ناجائز ہے۔ عید کی خوشی سنت پر عمل، جماعت، اور اللہ کی عبادت میں ہے۔ متبادل کے طور پر مسجد میں نماز ادا کریں۔ اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے

Latest Articles

Consult Mufti Tariq Masood for Islamic guidance on any issue. Contact now for expert advice with secure, private solutions.
Location
  • Jamia Masjid-o-Madras Alfalahiya, Sector#10, North Karachi, Karachi - Pakistan
  • 9118 Basin Ridge ln, Richmond, TX 77407 - United States
Term Of Use
NO © Copyright - Share As Much As You Can ! JAZAKALLAH
Privacy Policy
Your Zakat = Someone’s Food for a Month
Assalamu Alaikum,
Ek zakat ka rupaya ek maa ko 30 din ka ration de sakta hai.
MTM Zakat Fund – 100% transparent, verified cases.
“Sadaqah wipes out sin like water extinguishes fire.” (Tirmidhi)
  • Ek maa apne bacchon ke liye roti ka intezar kar rahi hai.
  • Ek mareez dawai ke liye dua maang raha hai...
    Aap ki zakat uski sehat wapas la sakti hai.
  • Ek family ghar khali karne wali hai...
    Aap ki zakat unka chhath bacha sakti hai.
Your Zakat For
Someone’s Medicine
Your Zakat For
Someone’s Food for a Month
Your Zakat For
Someone’s Education
Your Zakat For
Someone’s Rent

Nikah is Half Your Deen – Let’s Complete It Together.

Assalamu Alaikum,
I’ve seen thousands of lives change with one halal rishta.
No games. No fake promises. Just sincere matches, verified families, and barakah from day one.
👉 30 seconds to create your profile
👉 First match shown FREE
👉 100% Shariah-compliant process
The Prophet ﷺ said: “Whoever Allah provides with a righteous wife, Allah has assisted him in half his deen.” (Tirmidhi)
Let’s make that half easy for you.