
عید کی نماز اسلام میں سنت مؤکدہ ہے، جو عید الفطر اور عید الاضحیٰ دونوں پر ادا کی جاتی ہے۔ قرآن پاک میں سورہ الکوثر (آیت 2) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔” یہ آیت عید الاضحیٰ کی طرف اشارہ کرتی ہے، جبکہ عید الفطر رمضان کے اختتام پر شکر ادا کرنے کا موقع ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “عید کی نماز کی اہمیت”) میں فرماتے ہیں: “عید کی نماز جماعت سے ادا کرنا سنت ہے، اور یہ مسلمانوں کی اتحاد کی علامت ہے۔ عیدگاہ میں کھلے میدان میں نماز پڑھنا مستحب ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہو سکیں۔” عید کی نماز کے لیے ٹکٹ لگوانے والے سن لو کا معاملہ اسی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے کہ کیا یہ سنت کو متاثر کرتا ہے؟
عید کی نماز دو رکعت واجب ہے (حنفی مسلک میں)، جو تکبیریں، خطبہ، اور جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ عیدگاہ عام طور پر کھلا میدان ہوتا ہے جہاں ہزاروں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب اپنے ایک ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں فرماتے ہیں: “عید کی نماز کا مقصد اللہ کی حمد و ثناء اور مسلمانوں کا اجتماع ہے۔ انتظامی امور جیسے سیکیورٹی یا جگہ کی حد تک جائز ہیں، لیکن نماز کی روح کو نقصان نہ پہنچے۔”
عیدگاہ میں ٹکٹ لگانے کے بارے میں فقہاء کے آراء انتظامی ضرورت پر منحصر ہیں، لیکن حنفی مسلک کی روشنی میں اسے تین زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنی ویڈیو “عید کی نماز اور جدید مسائل” (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official) میں اس موضوع پر واضح رہنمائی دی:
مفتی طارق مسعود صاحب ٹکٹ کے مسائل سے بچنے کے لیے عید کی نماز کے سنت طریقے پر زور دیتے ہیں۔ کچھ عملی مشورے یہ ہیں:
سوال: کیا عید کی نماز کے لیے ٹکٹ لگانا جائز ہے؟ جواب: ہاں، اگر سیکیورٹی یا جگہ کے لیے مفت اور منصفانہ ہو، تو جائز ہے۔ سوال: اگر ٹکٹ نہ ملے تو کیا کریں؟ جواب: محلہ مسجد میں نماز ادا کریں، یہ جائز اور آسان ہے۔ سوال: عید الاضحیٰ میں قربانی کے ساتھ ٹکٹ کا کیا حکم؟ جواب: قربانی الگ ہے، نماز کے لیے ٹکٹ ناجائز نہ ہو تو ٹھیک، ورنہ مسجد میں پڑھیں۔
آج کل بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، اور دہلی میں عیدگاہوں پر ہجوم کی وجہ سے ٹکٹ کا نظام عام ہے۔ سوشل میڈیا پر (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) عید کی نماز کے لیے ٹکٹ لگوانے والے سن لو جیسے پوسٹس وائرل ہوتے ہیں۔ کچھ کمیٹیاں اسے کاروبار بنا لیتی ہیں، جو شرعی طور پر غلط ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “جدید مسائل کے لیے شرعی حل تلاش کرو، بدعت نہ کرو۔ عید اتحاد کا موقع ہے، تقسیم کا نہیں۔” ایک سروے (Muslim Festivals Survey, 2025) کے مطابق، 62% شہری مسلمان عیدگاہ کے ٹکٹ سسٹم سے پریشان ہیں۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو درست رہنمائی دیں۔
عید کی نماز کے لیے ٹکٹ لگوانے والے سن لو، مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ ٹکٹ کا نظام جائز ہو سکتا ہے اگر یہ سیکیورٹی اور ترتیب کے لیے مفت اور منصفانہ ہو۔ لیکن اگر یہ پیسوں سے ہو، نماز کو محدود کرے، یا سنت کے خلاف ہو، تو ناجائز ہے۔ عید کی خوشی سنت پر عمل، جماعت، اور اللہ کی عبادت میں ہے۔ متبادل کے طور پر مسجد میں نماز ادا کریں۔ اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے
