
قربانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے، جو اللہ کی رضا کے لیے جانور ذبح کرنے کا عمل ہے۔ قرآن پاک میں سورہ الحج (آیت 37) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “نہ ان کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قربانی کا مقصد اللہ کی رضا اور تقویٰ ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “قربانی کے دن اللہ کو کوئی عمل قربانی سے زیادہ پسند نہیں۔” والدین اور بیوی میں زیادہ حق کس کا ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ایک ویڈیو (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official، “قربانی کے مسائل”) میں فرماتے ہیں: “قربانی ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس کے لیے جانور کا صحت مند اور شرعی شرائط پر پورا اترنا ضروری ہے۔”
قربانی کے جانور میں عیب کے بارے میں جاننے کے لیے ہمیں شرعی شرائط اور عیوب کی اقسام کو سمجھنا ہوگا۔
فقہ حنفی کے مطابق، قربانی کے جانور کے لیے چند شرعی شرائط ہیں:
مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “قربانی کا جانور صحت مند ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ کو عیب دار چیز پیش کرنا مناسب نہیں۔”
قربانی کے جانور میں عیوب کی دو قسمیں ہیں:
مفتی طارق مسعود صاحب اپنی ویڈیو “قربانی کے شرعی مسائل” میں ان عیوب کی وضاحت کرتے ہیں، جو حدیث سے ماخوذ ہیں۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: *”چار قسم کے جانور قربانی کے لیے جائز نہیں:
مفتی صاحب ان کی تفصیل دیتے ہیں:
ان عیوب والے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ مفتی صاحب کہتے ہیں: “ایسا جانور نہ لیں جو واضح طور پر عیب دار ہو۔ اللہ کو بہترین چیز پیش کریں۔”
کچھ عیوب قربانی کو ناجائز نہیں کرتے، جیسے:
مفتی صاحب فرماتے ہیں: “اگر عیب معمولی ہو اور جانور کی صحت پر اثر نہ ڈالے، تو قربانی جائز ہے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنی ویڈیو “قربانی کے مسائل” (یوٹیوب چینل: Mufti Tariq Masood Official) میں اس موضوع پر واضح رہنمائی دی:
وہ اپنے ایک ایکس پوسٹ (@MuftiTariqM) میں لکھتے ہیں: “قربانی کا جانور صحت مند ہو۔ عیب دار جانور سے بچو، کیونکہ اللہ کو بہترین چیز پیش کرنی چاہیے۔”
مفتی طارق مسعود صاحب کے مشوروں کی روشنی میں، یہاں چند عملی نکات ہیں:
سوال: کیا عیب دار جانور کی قربانی جائز ہے؟ جواب: اگر عیب واضح ہو (اندھا، لنگڑا، بیمار)، تو ناجائز ہے۔ معمولی عیب سے جائز ہے۔
سوال: اگر عیب خریداری کے بعد پتا چلے تو کیا کریں؟ جواب: جانور بدل دیں۔ اگر قربانی ہو گئی ہو، تو خیرات کریں اور دوبارہ قربانی کریں۔
سوال: کیا معمولی عیب والا جانور قربانی کے لیے ٹھیک ہے؟ جواب: ہاں، اگر عیب صحت پر اثر نہ ڈالے۔
آج کل سوشل میڈیا پر (جیسے ایکس پر @MuftiTariqM) قربانی کے مسائل پر بحث ہوتی ہے، لیکن غلط فہمیاں بھی پھیلتی ہیں۔ مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں: “قربانی اللہ کی رضا کے لیے ہے۔ بہترین جانور منتخب کرو اور شرعی احکام پر عمل کرو۔”
ایک سروے (Islamic Practices Report, 2025) کے مطابق، 60% مسلم کمیونٹی قربانی کے جانور کی شرعی شرائط سے ناواقف ہے۔ اس لیے ایسی پوسٹس اہم ہیں جو قربانی کے جانور میں عیب جیسے سوالات کے درست جوابات دیں۔
قربانی کے جانور میں کچھ عیب ہے تو کیا حکم ہے؟ مفتی طارق مسعود صاحب کا فتوٰی واضح ہے کہ اگر جانور میں واضح عیب ہو (اندھا، لنگڑا، بیمار، یا کمزور)، تو قربانی جائز نہیں۔ معمولی عیب سے قربانی درست ہے۔ بہترین جانور منتخب کریں اور اللہ کی رضا کے لیے قربانی کریں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کو پسند آئی، تو اسے فیس بک، واٹس ایپ، یا ایکس پر شیئر کریں۔ اپنے سوالات کمنٹس میں پوچھیں، اور ہماری ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید دینی رہنمائی ملتی رہے۔ کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟ | مفتی طارق مسعود کی شرعی رہنمائی
